آدا کولاؤ نے بھی کارلوس کیوئرپو کو آسکر پوینتے کا جانشین مقرر کیے جانے کو ایک منطقی فیصلہ قرار دیا ہے۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد ٹی وی ای (TVE) کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’یہ ایک منطقی، مناسب اور قابلِ فہم فیصلہ ہے۔‘‘
فرنتے امپلیو کی رہنما نے نشاندہی کی کہ انتخابات میں اب صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں، اس لیے ان کے خیال میں اس وقت کسی سیاسی ذمہ دار کی تقرری کے ساتھ وزارت کے معاملات کو 29 نومبر تک زیادہ تر تکنیکی بنیادوں پر چلایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اصل اہمیت انتخابات کے بعد کی تجاویز پر توجہ دینے اور ملک گیر معاہدے کے ذریعے ریلوے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ہے۔
آدا کولاؤ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسپین میں شہری اور مضافاتی ٹرینوں (Cercanías) کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے جتنی تیز رفتار ٹرینوں (High-Speed Rail) کو دی جاتی ہے۔
سابق میئر نے آسکر پوینتے کے عہدے سے الگ ہونے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا اقدام ہے جسے عوام انتخابات میں سراہ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق’’یہ ایک ایسا قدم ہے جو دوسروں سے مختلف ہونے کا تاثر دیتا ہے۔ والنسیا میں آنے والے سیلاب (DANA) کے بعد ہم نے ایسا نہیں دیکھا تھا۔ ممکن ہے کہ عوام ووٹ کا فیصلہ کرتے وقت اس اقدام کو اہمیت دیں۔‘‘
آدا کولاؤ نے ان سرویز اور انتخابی جائزوں کے باوجود امید ظاہر کی ہے جن میں آئندہ انتخابات میں پاپولر پارٹی (PP) اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس (VOX) کو حکومت بنانے کے لیے برتری حاصل دکھائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا’’ہم برازیل سے واپس آئے ہیں جہاں انتخابی سروے لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کو سیاسی طور پر ختم سمجھ رہے تھے۔ سربیا میں طلبہ کی قیادت میں کامیابی دیکھنے کو ملی، جبکہ آج ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی توقعات سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’انتہائی دائیں بازو کو انتخابات میں شکست دی جا سکتی ہے۔‘‘
