اسپین کے شہر ریئوس (Reus) میں فلسطینی کمیونٹی کے لیے ایک نئے ثقافتی اور سماجی مرکز ’کاسا فلسطینا‘ (Casa Palestina) کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ یہ اسپین میں اپنی نوعیت کا دوسرا مرکز ہے، جس کا مقصد فلسطینی کمیونٹی کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی ثقافت، روایات اور سماجی تعلقات کو فروغ دے سکیں۔
اس سے قبل اسپین کے شہر زاراگوزا میں بھی اس نوعیت کا مرکز قائم کیا جا چکا ہے۔ ریئوس کے علاقے کیریر فریدریک سولر (Carrer Frederic Soler) میں قائم ہونے والا یہ نیا مرکز کیمپ دے تاراگونا (Camp de Tarragona) میں مقیم تقریباً 500 فلسطینیوں کے لیے ملاقات اور سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔
تاراگونا کی متحدہ عرب فلسطینی کمیونٹی کی صدر آمنہ شومان کے مطابق اس مرکز میں فلسطینی کھانوں، فنونِ لطیفہ، سینما، رقص اور موسیقی کے حوالے سے مختلف ورکشاپس اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی عوام کو درپیش حالات کے تناظر میں اپنی ثقافت اور شناخت کو زندہ رکھنا بھی ایک طرح کی مزاحمت ہے۔
گزشتہ ہفتے مرکز کی افتتاحی تقریب میں کیمپ دے تاراگونا کے تقریباً 100 فلسطینی کمیونٹی اراکین نے شرکت کی۔
آمنہ شومان کے مطابق اس مرکز کے قیام کا ایک اہم مقصد نئی نسل کو فلسطینی زبان، تاریخ، جڑوں اور ثقافت سے وابستہ رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے اپنی زبان اور ثقافتی شناخت کو بھول جائیں، کیونکہ فلسطینی ثقافت ان کی پہچان کا حصہ ہے۔
فلسطین کے سفیر فادی الحسینی نے بھی اس مرکز کے قیام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مقامات مختلف ثقافتوں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے اور فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مرکز دونوں قوموں کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو جوڑنے اور باہمی روابط کے لیے ایک پل ثابت ہوگا۔
فلسطینی سفیر نے ہسپانوی حکومت کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے مؤقف کا بھی خیرمقدم کیا اور اسے ایک ضروری اقدام قرار دیا۔
