اسپین کے علاقے مرسیا کی علاقائی پارلیمنٹ نے وزیراعظم پیدرو سانچیز کو ’پرسونا نون گراتا‘ (ناپسندیدہ شخصیت) قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد کے حق میں ووکس ،پاپولر پارٹی (پی پی) اور دیگر ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ سوشلسٹ پارٹی نے مخالفت کی۔ اس طرح مرسیا کی پارلیمنٹ اسپین کا پہلا علاقائی ادارہ بن گیا ہے جس نے وزیراعظم کے خلاف اس نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔
یہ قرارداد رواں سال 7 جولائی کو جوزے اینخل انتھیلو اور ورجینیا مارتینیز نے پیش کی تھی، جو ووکس سے علیحدگی کے بعد مخلوط گروپ میں شامل ہیں۔ گرمیوں کی تعطیلات اور سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے قرارداد کی کارروائی روکنے کے لیے قانونی اعتراض کے باعث اس پر فیصلہ مؤخر رہا۔
بدھ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں قرارداد کے حق میں 27 جبکہ مخالفت میں 13 ووٹ پڑے۔ تاہم اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں بلکہ یہ محض علامتی نوعیت کی سیاسی قرارداد ہے۔ اس سے قبل اسپین کے بعض بلدیاتی ادارے بھی ایسی قراردادیں منظور کر چکے ہیں، جن میں 2023 میں لورکا کی بلدیہ بھی شامل ہے۔
قرارداد پیش کرتے ہوئے ورجینیا مارتینیز نے دعویٰ کیا کہ یہ عوامی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ انہوں نے پیدرو سانچیز پر اقتدار میں رہنے کے لیے اخلاقی اصولوں اور اقدار کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا اور سوشلسٹ پارٹی سے منسلک مبینہ بدعنوانی کے معاملات کا حوالہ دیا، جن میں سابق وزیر خوسے لوئس آبالوس، سابق اٹارنی جنرل آلوارو گارسیا اور وزیراعظم کے بھائی کا معاملہ بھی شامل تھا۔
سوشلسٹ پارٹی کی ترجمان ماریا دیل کارمین فرناندیز نے اس قرارداد کو سیاسی مخالف کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری ادارے کو کسی سیاسی رہنما کے خلاف استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مرسیا میں غربت اور سماجی امداد کی تاخیر پر بھی علاقائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب وی اوکس کے رکن انتونیو مارتینیز نیتو نے سانچیز کو حالیہ تاریخ کا بدترین وزیراعظم قرار دیا، جبکہ پاپولر پارٹی کے رکن مارتینیز کاراسکو نے مرکزی حکومت کی مالیاتی پالیسی اور دریائے تاخو سے پانی کی فراہمی میں مبینہ کمی پر اعتراضات اٹھائے۔
یوں مرسیا میں یہ قرارداد منظور ہونے کے باوجود پیدرو سانچیز کے وزیراعظم کے عہدے یا ان کے قانونی اختیارات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
