امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن بدھ کی رات ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، تہران نے کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کر دیا۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں ہونے والے بڑے سیاسی نقصان کے موقع پر امریکہ میں اپنے سفارت خانے پر قبضے کی 47ویں سالگرہ منائی۔ 4 نومبر 1979 کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے نتیجے میں یرغمالیوں کا بحران پیدا ہوا تھا، جو 400 روز سے زائد جاری رہا۔
ایران میں 4 نومبر کو ’’عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کا قومی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکام نے ٹرمپ کی انتخابی ناکامی پر بھی ردعمل دیا۔
ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی عوام نے چاہے شعور کی بنیاد پر یا مہنگائی سے تنگ آکر، انتخابات میں واضح طور پر ’’نہ‘‘ کہہ دیا ہے۔ ایران اس پیغام کی حمایت کرتا ہے۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت اپنے عوام کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیل اور وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دباؤ میں ایران پر دوبارہ حملہ کرتی ہے تو اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
دوسری جانب ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی نے واضح کیا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں کسی سمجھوتے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج بدھ کی رات ہی ایران پر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
ایران کے وزیر تعلیم علیرضا کاظمی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم کسی بھی غلط اقدام کی صورت میں غیر معمولی جواب دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی سیاسی مشکلات اور ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بھی ایک فیصد بڑھ گئی۔
ادھر ٹرمپ نے انتخابی شکست کی ذمہ داری اپنی جماعت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر کیے گئے اقدامات کی اہمیت عوام سمجھتے ہیں۔
