نیویارک: شہر کے میئر زوہران ممدانی نے کہا ہے کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی شاندار کامیابی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ محنت کش طبقہ اپنی حکومت سے مزید توقعات رکھتا ہے اور اب مزید انتظار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت پر زور دیا ہے کہ کانگریس میں حاصل ہونے والی نئی اکثریت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری طور پر استعمال کیا جائے، خصوصاً مہنگائی، رہائش کے اخراجات اور روزمرہ زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت پر قابو پایا جائے۔
ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت کی تصدیق کے بعد اپنے بیان میں ممدانی نے ریپبلکن رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جے ڈی وینس نے ملک سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے مزید دو سال مانگے تھے، لیکن محنت کش طبقہ اپنے گھر کا کرایہ، بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کے راشن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید دو سال انتظار نہیں کرسکتا۔
ممدانی نے کہا کہ عوام بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور سیاست میں دولت مند طبقے کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے تنگ آچکے ہیں۔ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ سب کے لیے وسائل کافی نہیں، جبکہ دوسری جانب ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بننے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے امیر افراد کے زیراثر سیاست دانوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی بنیادی ضروریات کو غیرحقیقی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری وسائل اسکولوں کی تعمیر، سڑکوں کی بہتری اور عوامی فلاح پر خرچ ہونے چاہئیں، نہ کہ جنگی جرائم اور نسل کشی جیسے اقدامات پر۔
ممدانی نے واضح کیا کہ صرف اقتدار حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اسے عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے اپنے وعدے پورے کرنے کا وقت آگیا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں، خصوصاً معاشی اقدامات اور کٹوتیوں کو تبدیل کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کردی ہے۔ انتخابات کو ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا جارہا ہے، جس کے بعد صدر اپنے آخری دو سالہ دورِ اقتدار میں سیاسی طور پر کمزور پوزیشن میں آگئے ہیں۔
