اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان اس امید کے ساتھ کیا تھا کہ ان کی جماعت سوشلسٹ پارٹی (PSOE) پنشن، رہائش کے مسائل اور تنخواہوں جیسے عوامی موضوعات کو انتخابی مہم کا مرکز بنا کر ووٹرز کی حمایت حاصل کرے گی، تاہم حالیہ واقعات نے پارٹی کی حکمت عملی کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
ابتدائی طور پر سوشلسٹ پارٹی کی منصوبہ بندی تھی کہ انتخابی مہم میں عوامی حقوق، رہائش کی سہولت، خواتین کے حقوق اور سماجی تحفظ جیسے معاملات کو نمایاں کیا جائے۔ لیکن ٹولیڈو کے علاقے اوردا میں ہونے والے ہولناک ٹرین حادثے نے ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ اس حادثے میں 69 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ اسپین کا دوسرا بڑا مہلک ریلوے حادثہ تھا۔
حادثے کے بعد حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ وہ سوشلسٹ پارٹی کی انتخابی مہم کے اہم چہروں میں شامل تھے اور وایادولید سے انتخابی امیدوار بھی ہیں۔ پارٹی اب ان کے استعفے کو سیاسی ذمہ داری کی مثال قرار دے کر عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
دوسری جانب کُلدو کیس (Caso Koldo) میں نئی پیش رفت نے سوشلسٹ پارٹی کے لیے ایک اور مشکل کھڑی کردی ہے۔ گواردیا سول کے تحقیقاتی ادارے UCO نے سابق وزیر خوسے لوئس آبالوس کی رہائش گاہ پر تلاشی لی، ریلوے ادارے ادیف (Adif) میں کارروائی کی اور عدالتی حکم پر متعدد گرفتاریاں بھی کیں۔
سوشلسٹ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے کارروائی کے انتخابی مہم کے دوران سامنے آنے کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم سانچیز کا گرفتار افراد سے کوئی تعلق نہیں۔
اکتوبر کے ایک سروے کے مطابق کرپشن ووٹروں کے فیصلے پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں چوتھے نمبر پر ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سانچیز نے انتخابی تاریخ اور مہم کی حکمت عملی اپنے حق میں ترتیب دینے کی کوشش کی تھی، لیکن ریلوے حادثے، وزیر کے استعفے اور کرپشن کے نئے الزامات نے ان کی جماعت کو دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے۔ اب PSOE کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوامی اعتماد بحال کرنا اور 29 نومبر کے انتخابات سے پہلے اپنی انتخابی مہم کا رخ دوبارہ متعین کرنا ہے۔
