میڈرڈ/ اسپین کی سوشلسٹ پارٹی (PSOE) نے ان ہسپانوی شہریوں کے حقِ رائے دہی کی بحالی کے مطالبے کے لیے دستخطی مہم شروع کردی ہے جنہوں نے ’’قانونِ پوتروں‘‘ (Ley de Nietos) کے تحت ہسپانوی شہریت حاصل کی ہے۔ پارٹی نے اپنے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ارکان کو ای میل بھیج کر اس مہم میں دستخط کرنے اور اسے اپنے دوستوں اور جاننے والوں تک پہنچانے کی اپیل کی ہے۔
یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے افراد کی انتخابی فہرست میں عارضی طور پر رجسٹریشن معطل کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ انتخابی فہرست میں ان افراد کی شمولیت سے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانب داری متاثر ہونے کا ’’حقیقی اور سنجیدہ خطرہ‘‘ پیدا ہوسکتا ہے۔
PSOE نے اپنی مہم میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احتیاطی اقدام ختم کرکے متاثرہ افراد کا ووٹ کا حق بحال کرے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ ان افراد کے مساوی حقِ رائے دہی سے متعلق ہے۔
دوسری جانب حکومت کے ریاستی وکلا نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ ریاستی وکلا کے مطابق ووٹر فہرست میں اضافے سے پیدا ہونے والا خطرہ حقِ رائے دہی کو معطل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
PSOE کی جانب سے جاری پیغام میں پارٹی نے اپنے سیاسی مخالفین، بالخصوص دائیں بازو کی جماعتوں، پر اس معاملے میں سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ یہ الزامات پارٹی کے سیاسی مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کردہ اقدام عارضی نوعیت کا ہے اور حتمی عدالتی فیصلے سے مشروط ہے۔ متاثرہ افراد کی ہسپانوی شہریت اس عدالتی کارروائی کا براہِ راست موضوع نہیں، بلکہ انتخابی فہرست میں ان کی رجسٹریشن اور ووٹ دینے کے حق کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔
