میڈرڈ/ فرانس میں پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بعد اسپین میں بھی ایسی صورتحال کے خدشات سامنے آئے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اسپین کی صورتحال فرانس سے مختلف ہے اور اس وقت اسپین میں ایندھن کی شدید قلت کے امکانات نسبتاً کم ہیں۔
اسپین میں پٹرول کی قیمت مسلسل 11ویں ہفتے بڑھ گئی ہے اور گزشتہ ہفتے سال 2026 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے، جبکہ منگل کو برینٹ خام تیل 97.86 ڈالر فی بیرل پر رہا۔
فرانس میں 22 ستمبر کی صبح تقریباً 14 فیصد پٹرول پمپس کو کم از کم ایک قسم کے ایندھن کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ 20 ستمبر کو یہ شرح 17 فیصد تھی۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام متاثرہ اسٹیشن مکمل طور پر ایندھن سے خالی ہوچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فرانس کا مسئلہ بڑی حد تک اس کی درآمدی ضرورت اور محدود ریفائنری صلاحیت سے متعلق ہے۔ فرانس میں صرف چھ ریفائنریاں ہیں اور وہ اپنی کھپت کا تقریباً نصف ڈیزل درآمد کرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں اسپین میں آٹھ ریفائنریاں ہیں اور مشرق وسطیٰ سے آنے والے تیل پر انحصار بھی کم ہے۔ 2026 کے پہلے سات ماہ میں اسپین کی ڈیزل کھپت کا تقریباً 23.3 فیصد درآمدات سے پورا ہوا، جبکہ پٹرول میں یہ شرح 14.2 فیصد رہی۔
تاہم قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے اسپین میں ڈیزل کی اوسط قیمت 1.834 یورو فی لیٹر اور پٹرول کی قیمت 1.866 یورو فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ زرعی تنظیموں نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال بھی دی ہے۔
