اسپین میں سانس کی بیماریوں کے وائرسز کا موسم شروع ہوگیا ہے اور متعدد خودمختار علاقوں میں کووڈ نمایاں طور پر سب سے زیادہ گردش کرنے والا وائرس بن گیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے ٹیسٹ کی طلب میں اضافے کے باعث کئی فارمیسیوں کو فلو اور کووڈ کے مزید ٹیسٹ منگوانے پڑ رہے ہیں۔
مرسیا، گالیسیا اور لا ریوخا سمیت بعض علاقوں نے سانس کے وائرسز کے خلاف ویکسینیشن مہم پہلے ہی شروع کردی ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ وائرس معمول سے پہلے پھیل سکتے ہیں۔ کووڈ اور فلو کی ویکسین بزرگوں اور زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو جبکہ RSV کی ویکسین بچوں، شیر خواروں اور بزرگوں کے لیے دی جا رہی ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں ویکسینیشن مہم ستمبر کے آخری ہفتے اور اکتوبر کے آغاز میں شروع ہوگی۔
تاہم کووڈ پہلے ہی کئی ہفتوں سے گردش کر رہا ہے اور اس کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اسپین کے کارلوس سوم ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ (ISCIII) کے نظامِ نگرانی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر کے وسط میں ملک میں SARS-CoV-2 وائرس کی گردش دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار 7 سے 13 ستمبر 2026 کے ہفتے کے ہیں۔
دوسری جانب فلو کی سرگرمی ابھی کم سطح پر ہے جبکہ سانس کا RSV وائرس تجزیہ کیے گئے نمونوں میں فی الحال مثبت نہیں پایا گیا۔
سب سے نمایاں تبدیلی کووڈ کی نگرانی میں سامنے آئی ہے۔ بنیادی مراکزِ صحت میں کووڈ جیسے علامات والے کیسز کی شرح گزشتہ ہفتے کے 8 کیسز فی ایک لاکھ افراد کے مقابلے میں بڑھ کر 11.3 کیسز فی ایک لاکھ افراد ہوگئی ہے۔
سانس کی شدید بیماری کے مریضوں پر کیے جانے والے ٹیسٹوں میں بھی کووڈ کی شرح بڑھی ہے۔ SARS-CoV-2 کے مثبت نمونوں کی شرح 15 فیصد سے بڑھ کر 16.7 فیصد ہوگئی ہے۔
ہسپتالوں میں بھی یہی رجحان نظر آ رہا ہے۔ سانس کی شدید بیماری کے باعث ہسپتال میں داخل مریضوں میں SARS-CoV-2 کی مثبت شرح 11.6 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہوگئی ہے۔
باسک حکومت کے محکمہ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق وہاں کووڈ کے کیسز میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ فارمیسیوں نے بھی گزشتہ چند دنوں کے دوران کووڈ ٹیسٹوں اور نسبتاً کم مقدار میں ماسک کی طلب میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔
اسی طرح اندلس اور گالیسیا میں بھی صورتحال تقریباً ایسی ہی ہے۔ میڈرڈ میں بنیادی مراکزِ صحت اور ہسپتالوں میں سر درد سمیت علامات کے ساتھ آنے والے بعض مریضوں کا فوری طور پر ناک کے ذریعے کووڈ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔
خاندانی ڈاکٹروں کے مطابق موجودہ کووڈ عام طور پر زیادہ شدید نوعیت کا نہیں ہے، تاہم زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر صحت کی حالت بگڑنے لگے، خصوصاً سانس لینے میں دشواری ہو، تو فوری طور پر مرکزِ صحت سے رجوع کرنا چاہیے۔
عام علامات کیا ہیں؟
موجودہ کووڈ کی علامات فلو سے کافی ملتی جلتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 70 فیصد مریضوں میں کھانسی پائی جاتی ہے، جبکہ 60 سے 66 فیصد مریض عمومی بے چینی، ناک بند ہونے، گلے میں درد اور بخار کی شکایت کرتے ہیں۔
کووڈ کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح فی الحال کم ہے، جو 1.2 کیسز فی ایک لاکھ افراد ہے، تاہم یہ گزشتہ ہفتے کے 0.7 کیسز فی ایک لاکھ افراد کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
کارلوس سوم ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2025 کے ہفتہ 40 سے موجودہ سیزن کے آغاز کے بعد کووڈ کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں 22.9 فیصد کو نمونیا، 5 فیصد کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) میں داخلے کی ضرورت پڑی، جبکہ 8.6 فیصد کیسز میں اموات ریکارڈ کی گئیں۔
