اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے فضائی بیڑے میں توسیع، بین الاقوامی پروازوں میں اضافے، فضائی میزبانوں کے نئے یونیفارم اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد ایئرلائن کی بین الاقوامی سرگرمیوں کو وسعت دینا اور مسافروں کے سفری تجربے کو بہتر بنانا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پی آئی اے نے یورپی ایئرلائن نورس اٹلانٹک ایئرویز (Norse Atlantic Airways) کے ساتھ دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے لیز پر حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ان طیاروں کی نومبر 2026 میں شمولیت متوقع ہے۔ معاہدے کے تحت طیارے عملے، دیکھ بھال اور انشورنس سمیت لیز پر حاصل کیے جائیں گے، جبکہ مزید تین طیارے لیز پر لینے کے منصوبے سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب پی آئی اے نے اپنے کیبن کریو کے لیے نئے یونیفارم تیار کرنے کی ذمہ داری معروف پاکستانی فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین (HSY) کو سونپی ہے۔ نئے یونیفارم میں پاکستانی ثقافت، قومی شناخت اور جدید فیشن کو یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق نئے یونیفارم کی رونمائی 31 اکتوبر کو لندن سے اسلام آباد کے لیے مجوزہ خصوصی پرواز کے موقع پر متوقع ہے۔
برطانیہ کے لیے پروازوں میں اضافے کے منصوبے کے تحت پی آئی اے نے 27 اکتوبر سے لندن کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد سات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ شیڈول کے مطابق اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتے میں پانچ اور لاہور سے دو پروازیں چلائی جائیں گی۔ اس اقدام سے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستان آنے جانے کے لیے مزید سفری مواقع میسر آ سکتے ہیں۔
پی آئی اے اپنے بوئنگ 777 طیاروں میں بھی کیبن سہولیات بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ مجوزہ بہتریوں میں بزنس کلاس میں فلیٹ بیڈ نشستیں، موبائل فون اور دیگر آلات کی چارجنگ کی سہولت، نشستوں اور کیبن کی بہتری، جدید تفریحی نظام اور کھانے کے مینیو میں تبدیلیاں شامل ہیں۔
ایئرلائن کی انتظامی قیادت میں تبدیلیوں اور نجکاری کے عمل کے بعد بھی مستقبل کی حکمت عملی میں نئے طیاروں کے حصول، بین الاقوامی روٹس کی بحالی اور آپریشنز میں توسیع کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایوی ایشن کے شعبے سے وابستہ ایڈرین ہیملٹن مینز (Adrian Hamilton-Manns) کو نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر نامزد کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
برطانیہ کے لیے پروازوں میں مجوزہ اضافے کے بعد اسپین، اٹلی، فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی توجہ بھی پی آئی اے کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہے۔ خصوصاً بارسلونا اور پاکستان کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کا معاملہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم بارسلونا سے پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے فی الحال کسی حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔
پی آئی اے کے ان منصوبوں پر عمل درآمد اور بین الاقوامی روٹس میں توسیع کی پیش رفت آئندہ مہینوں میں واضح ہوگی، جبکہ مسافروں کو سہولیات کی فراہمی اور خدمات کے معیار میں بہتری ایئرلائن کے لیے اہم چیلنجز رہیں گے۔
