اسپین کی حکمران جماعت سوشلسٹ پارٹی (پی ایس او ای) نے پاپولر پارٹی (پی پی) کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ معاملہ وزیراعظم پیدرو سانچیز کی اہلیہ بیگونیا گومیز کی تصویر اور آواز کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تبدیل کرکے ایک ویڈیو تیار کرنے اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنے سے متعلق ہے۔ یہ ویڈیو پی پی کے سربراہ البرتو نونیز فیخو کی جماعت کے سرکاری اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی تھی۔
ہسپانوی اخبار ایل پیریودیکو کے مطابق، سوشلسٹ پارٹی کی قیادت کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جماعت اس معاملے کا قانونی جائزہ لے رہی ہے۔ بدھ کی شب جاری ہونے والی ویڈیو میں بیگونیا گومیز کی مصنوعی طور پر تیار کردہ تصویر میں انہیں یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ اگر میرے شوہر وزیراعظم ہیں اور اسی وجہ سے مجھے یونیورسٹی میں چیئر ملی ہے، تو اگر یہ بائیں بازو کی سیاست ہے، تو ہاں، میں بائیں بازو سے تعلق رکھتی ہوں۔
ویڈیو میں صرف بیگونیا گومیز ہی نہیں بلکہ سابق وزیر جوزے لوئس ابالوس، سابق وزیراعظم جوزے لوئس رودریگیز زاپاتیرو، لیئرے دیز، مونتسے مینگیز اور سانتوس سردان کی تصاویر اور آوازیں بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کرکے پیش کی گئیں۔ ان مناظر میں متعلقہ شخصیات سے مختلف اقدامات منسوب کیے گئے، جن میں بعض مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔
سوشلسٹ پارٹی کے ہیڈکوارٹر فیرّاز کے مطابق، سیاسی بحث اور تنقید ایک الگ معاملہ ہے، لیکن اس کی بھی حدود ہوتی ہیں۔ جماعت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا مرکزی انتخابی بورڈ یا عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔ اس سلسلے میں شہری اور فوجداری قوانین کے تحت ممکنہ کارروائی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پی پی کی یہ ویڈیو وزیراعظم پیدرو سانچیز کی اس ویڈیو کے جواب میں سامنے آئی، جس میں انہوں نے کم از کم اجرت بڑھانے، پنشن میں اضافہ کرنے اور والدین کو نومولود بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی سہولت دینے کو ترقی پسند پالیسیوں کی مثال قرار دیا تھا۔
یہ پیغام ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی کے ان بیانات کے پس منظر میں جاری کیا گیا تھا، جن میں وہ ترقی پسند سیاست دانوں کو توہین آمیز انداز میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا قرار دیتے ہیں۔ سانچیز نے میلی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے دونوں ممالک کی معاشی پالیسیوں کا موازنہ بھی کیا۔ ان کے مطابق، ارجنٹائن میں کم از کم اجرت میں 40 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اسپین میں اس میں 66 فیصد اضافہ کیا گیا۔
