میڈرڈ/اسپین کی متعدد معروف غیر سرکاری تنظیموں نے کانگریس کی جانب سے ہاؤسنگ سے متعلق حکومت کے دونوں حکمناموں کو مسترد کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آکسفیم انٹرمون، یورپی نیٹ ورک اگینسٹ پاورٹی اینڈ سوشل ایکسکلوژن (EAPN-ES) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فیصلے کو ’’ضائع ہونے والا موقع‘‘ قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے شہریوں کے رہائش کے حق کو ترجیح دیں۔
آکسفیم انٹرمون کے ہاؤسنگ امور کے ذمہ دار الیخاندرو گارسیا خِل نے ووٹنگ کے نتائج کو ’’بہت بری خبر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپین میں ہاؤسنگ پالیسی کا رخ تبدیل کرنے اور ایسے بحران سے نمٹنے کا تاریخی موقع ضائع ہوگیا ہے جو سماجی ہنگامی صورتحال اور ملک میں عدم مساوات کی بڑی وجوہات میں شامل ہوچکا ہے۔
ان کے مطابق حکومتی اقدامات ہاؤسنگ کے ساختی مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کرتے تھے، تاہم وہ لاکھوں افراد کی مشکلات کم کرنے کی جانب پہلا قدم ثابت ہوسکتے تھے۔ ان تجاویز کا مقصد کرایہ داروں کو تحفظ فراہم کرنا، انتہائی کمزور حالات سے دوچار افراد کی مدد کرنا اور کرایہ داری میں استحکام پیدا کرنا تھا۔
آکسفیم کے مطابق تقریباً 50 لاکھ افراد 2028 تک کرایہ داری کے معاہدوں میں مجوزہ اضافی توسیع سے فائدہ اٹھانے کا موقع کھو دیں گے، جبکہ ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ کمزور افراد متبادل رہائش کے بغیر بے دخلی کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ تقریباً ایک کروڑ کرایہ داروں کے لیے معاہدوں کی خودکار تجدید کے ذریعے اضافی استحکام فراہم کرنے کی تجویز بھی رک گئی ہے۔
EAPN-ES نے کہا کہ ہاؤسنگ کا حق سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے یرغمال نہیں بننا چاہیے۔ تنظیم کے مطابق مارکیٹ ریٹ پر کرائے کے مکان میں رہنے والے 43.6 فیصد افراد غربت یا سماجی اخراج کے خطرے سے دوچار ہیں۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی حکومتی اقدامات مسترد ہونے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے رہائش کے حق کے مؤثر تحفظ کے لیے مزید عملی اقدامات ضروری ہیں۔
تینوں تنظیموں نے زور دیا کہ ہاؤسنگ بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ طویل مدتی اور مستقل پالیسی بھی ضروری ہے، جس میں سستی اور سماجی رہائش کے مواقع بڑھانا اور کم آمدنی والے افراد کو ان کے علاقوں سے بے دخل ہونے سے بچانا شامل ہے۔
