پیرس/ فرانس میں اساتذہ کی شدید کمی، طلبہ سے بھری کلاسوں، تعلیمی سہولیات کے فقدان اور مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں کے درمیان عدم مساوات کے خلاف شروع ہونے والے طلبہ کے احتجاج نے ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے۔ بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد معاملہ سیاسی تنازع میں بھی تبدیل ہوگیا ہے۔
احتجاج کا آغاز 21 ستمبر کو پیرس کے قریب کریتے کے Saint-Exupéry ہائی اسکول سے ہوا، جہاں طلبہ نے اساتذہ اور تدریسی اوقات کی کمی، خستہ حال عمارتوں، بڑی کلاسوں اور کمپیوٹر سمیت ضروری تعلیمی وسائل کی قلت کے خلاف مظاہرہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق فرانس کو بعض علاقوں میں اساتذہ کی آسامیاں پُر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کم تنخواہوں اور مشکل حالاتِ کار کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔ بعض اساتذہ بھی طلبہ کے احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔
طلبہ کا ایک بڑا اعتراض تعلیمی عدم مساوات پر بھی ہے۔ نسبتاً غریب علاقوں، خصوصاً Seine-Saint-Denis جیسے مقامات کے تعلیمی اداروں میں سہولیات امیر علاقوں کے مقابلے میں کم ہونے کی شکایات ہیں۔ بعض کلاسوں میں طلبہ کی تعداد 35 تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب حکومت کے 2027 کے بجٹ میں تقریباً 54 ارب یورو کی کٹوتیوں کے منصوبے نے تعلیمی شعبے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ بھی بڑھتی مہنگائی اور رہائش کے اخراجات سے پریشان ہیں۔ حکومت کی جانب سے بعض کرایہ امداد میں ممکنہ تبدیلیوں نے بھی تشویش پیدا کی ہے۔
احتجاجی تحریک 29 ستمبر کو اس وقت مزید وسیع ہوئی جب طلبہ سرکاری ملازمین کی ہڑتال میں شامل ہوگئے۔ TikTok اور Snapchat سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے مظاہروں کی کال پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ زیادہ تر مظاہرے پُرامن رہے، بعض مقامات پر پولیس سے جھڑپیں، گرفتاریاں اور تعلیمی اداروں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
سیاسی سطح پر Jean-Luc Mélenchon نے حکومتی ردعمل پر سخت تنقید کی، جبکہ حکومت نے ان کی جماعت La France Insoumise (LFI) پر طلبہ کے احتجاج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
