میڈرڈ: اسپین میں بڑھتے ہوئے رہائشی بحران اور کرایوں میں اضافے کے خلاف ہزاروں افراد نے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور رہائش کے مسئلے کے حل کے لیے عام ہڑتال کی اپیل کردی۔ یہ احتجاج کانگریس کی جانب سے حکومت کے پیش کردہ رہائشی قوانین اور اقدامات کو مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیا۔
ملک بھر میں ہفتہ اور اتوار کے دوران تقریباً 50 شہروں اور علاقوں میں مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ میڈرڈ، بلباؤ، سیگوویا، سیویّا، ویلنسیا، سانتاندیر، لاس پالماس دی گران کیناریہ اور کادیز سمیت کئی شہروں میں بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکلے۔
میڈرڈ میں احتجاج سب سے بڑا رہا، جہاں حکومتی وفد کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد نے چار مختلف مارچوں میں شرکت کی جو بعد ازاں سیبیلس کے مقام پر جمع ہوئے۔ تاہم مظاہرے کے منتظمین، کرایہ داروں کی یونین، نے شرکا کی تعداد پانچ لاکھ تک بتائی۔
ویلنسیا میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ پولیس نے مظاہرین کو ایک رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری فورم کے مقام پالاؤ دی لیس آرس تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی۔
احتجاج کا ایک اہم پس منظر 87 سالہ ماریکرمن کی بے دخلی کا واقعہ ہے، جس کے بعد رہائشی بحران پر ملک بھر میں شدید بحث شروع ہوئی۔ حکومت نے اس صورتحال کے بعد بے دخلیوں پر پابندی، ٹیکس مراعات اور کرایہ داری کے معاہدوں کی خودکار تجدید سمیت مختلف اقدامات پر مشتمل دو شاہی فرمان منظور کیے تھے، تاہم پارلیمان نے انہیں مسترد کردیا۔
مظاہرین نے کرایوں میں 50 فیصد کمی، بڑے سرمایہ کاری فنڈز سے مکانات واپس لینے اور عام ہڑتال سمیت مختلف مطالبات پیش کیے۔
میڈرڈ کی کرایہ دار یونین کی ترجمان والیریا رَکو نے کہا کہ رہائش کے مسئلے پر عام ہڑتال جلد ہوگی، تاہم ابھی اس کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں بڑے مزدور یونینوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
