میڈرڈ میں رہائش کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور حکومت سے رہائشی مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کا اہتمام کرایہ داروں کی تنظیم سندیکاتو دے انکولیناس کی جانب سے کیا گیا، جبکہ ملک کے 40 سے زائد شہروں میں بھی رہائش کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔
میڈرڈ میں مظاہرین نے شہر کے مختلف علاقوں سے چار الگ الگ جلوسوں کی صورت میں مارچ شروع کیا، جو تقریباً دو گھنٹے بعد پلازا دی سیبیلیس اور اس کے اطراف میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ احتجاج میں نوجوانوں، خاندانوں، بچوں اور بزرگوں سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے کرایوں میں اضافے، گھروں کی عدم دستیابی اور رہائشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ متعدد پلے کارڈز پر ’’رہنے کے لیے گھر، رہنے کے لیے سیارہ‘‘ اور خاندانوں اور مقامی شہریوں کے لیے گھروں کے مطالبات درج تھے۔
احتجاج میں میڈرڈ کی علاقائی حکومت اور میئر پر بھی تنقید کی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کرایوں میں مسلسل اضافے کے باوجود حکام نے رہائشی بحران پر قابو پانے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔
شرکاء کی تعداد کے حوالے سے سرکاری اور منتظمین کے اعداد و شمار میں بڑا فرق سامنے آیا۔ حکومتی وفد کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد نے شرکت کی، جبکہ سندیکاتو دے انکولیناس نے شرکاء کی تعداد 5 لاکھ تک بتائی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب اسپین کی پارلیمان میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے رہائشی قوانین سے متعلق متعدد اقدامات کو مسترد کر دیا گیا۔ مظاہرین نے اس صورتحال کے خلاف عام ہڑتال کی اپیل بھی کی۔
دوسری جانب ویلنسیا میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی ہوئی، جبکہ سانتاندَر میں بھی ہزاروں افراد نے رہائش کے حق میں مظاہرہ کیا۔
بارسلونا اور ہاسپیتالیت دی یوبریگات میں آج ہونے والا احتجاج شدید بارش کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق بارسلونا میں نیا مظاہرہ 5 اکتوبر کو پلازا اورکیناونا میں ہوگا۔
