ولی نصر
ایران کی قیادت کا خیال ہے کہ مزید کشیدگی امریکہ کو مجبور کرے گی کہ وہ اسے وہ سیکیورٹی اور معاشی ریلیف دے جس کی اسے ضرورت ہے۔
امریکہ اور ایران دوبارہ جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ دونوں ممالک نے اس مفاہمتی یادداشت (MoU) کو غلط سمجھا جو انہوں نے جنگ کے پہلے مرحلے کو ختم کرنے کے لیے دستخط کی تھی۔ اگرچہ یہ معاہدہ مبہم تھا اور مختلف تشریحات کی گنجائش رکھتا تھا، لیکن اس کی اصل کمزوری یہ تھی کہ یہ اس وقت کے طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے پر مبنی تھا،ایک ایسا توازن جسے امریکہ بدلنا چاہتا تھا جبکہ ایران اسے برقرار رکھنا چاہتا تھا۔
امریکہ نے فروری میں جنگ کا آغاز اس مقصد سے کیا کہ یا تو ایران کی اسلامی حکومت کو ختم کر دیا جائے یا اسے مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی کردار پر امریکی شرائط تسلیم کرے۔ لیکن اس کے برعکس، جنگ نے ایران کو ایک اسٹریٹجک برتری دے دی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول۔ یہی وہ صورتحال تھی جس نے امریکہ کو مفاہمتی معاہدہ کرنے پر مجبور کیا۔
ایران کی قیادت کو شبہ تھا کہ یہ معاہدہ دراصل امریکہ کی ایک وقتی پسپائی ہے، جس کا مقصد عالمی معیشت پر دباؤ کم کرنا اور دوبارہ جنگ کی تیاری کرنا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کو یہ معاہدہ اس لیے پسند آیا کیونکہ اس سے امریکہ کو اپنے تیل کے ذخائر دوبارہ بھرنے کا وقت ملے گا۔
ایران کو اپنے خدشات کے حق میں کئی اشارے بھی ملے۔ اس کے منجمد اثاثے بحال نہیں کیے گئے؛ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی سے ہونے والے معاہدے میں ایران کے جنگ بندی کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا؛ خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھائی گئی؛ اور امریکہ نے تجارتی جہازوں کو ایران کی ہدایات کو نظر انداز کرنے کی ترغیب دی، جس سے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
اگرچہ یہ اقدامات بظاہر معاہدے کی بڑی خلاف ورزی نہیں تھے، لیکن مجموعی طور پر یہ ایران کے حاصل کردہ اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ایک منظم کوشش تھے۔
ایران کی موجودہ قیادت کا ماننا ہے کہ اگر وہ نرمی دکھائے گی تو امریکہ مزید دباؤ ڈالے گا۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو روکنے اور اسے سنجیدہ مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے ایران کو جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی اور کشیدگی کو اس سطح تک لے جانا ہوگا جہاں امریکہ تیار نہ ہو۔
ایران کے لیے سب سے اہم طاقت آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے۔ اگر وہ یہ کنٹرول کھو دیتا ہے تو مستقبل کے مذاکرات میں اس کے پاس کوئی مضبوط پوزیشن نہیں رہے گی۔ اسی لیے ایران اس کنٹرول کو برقرار رکھنے کو اپنی کامیابی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
حالیہ دنوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے بھی قیادت کو یہ یقین دلایا کہ عوام سخت مؤقف کی حمایت کریں گے۔ اسی تناظر میں ایران نے امریکی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے دو آئل ٹینکروں پر حملہ کیا جو عمان کے قریب سے گزر رہے تھے۔
اس کے جواب میں امریکہ نے بھرپور فوجی کارروائی کی، جس میں ایران کے ڈرون اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے فوجی و شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیا تاکہ ایران کی مزاحمت کی قیمت بڑھائی جا سکے۔
لیکن ایران جنگ کے لیے تیار تھا۔ اگرچہ جنگ توقع سے پہلے شروع ہو گئی، ایران اسے اپنے حق میں سمجھتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں بہتر ہے کہ جنگ اس وقت لڑی جائے جب امریکہ پوری طرح تیار نہ ہو۔
ایران اب امریکی دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے خلیج میں امریکی مفادات اور توانائی کے ڈھانچے پر حملے تیز کرے گا۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ جنگ امریکہ کی مرضی کی سطح تک محدود نہیں رہے گی۔
ساتھ ہی ایران معاشی مشکلات بھی برداشت کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ آبنائے ہرمز اور دیگر اہم سمندری راستوں کو بند کر کے وہ عالمی معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ممکن ہے کہ ایران اپنی صلاحیتوں کا زیادہ اندازہ لگا رہا ہو، لیکن اس کا ماننا ہے کہ سخت مؤقف نے پہلے مرحلے میں اسے فائدہ دیا، اور شاید جنگ ہی وہ راستہ ہے جس سے امریکہ کو سنجیدہ مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکومت اس وقت ایک بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اسے یقین ہے کہ زیادہ مشکلات برداشت کرنے کی اس کی صلاحیت اسے برتری دے گی اور یہی چیز مستقبل کے مذاکرات میں اس کے کام آئے گی۔
Finacial Time
