لندن : برطانیہ میں غیر ملکی ورکرز کے لیے ویزا قوانین مزید سخت ہونے کا امکان ہے، مڈ-اسکلڈ ملازمتوں کے کوٹے میں بڑی کٹوتی کی سفارش کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں غیر ملکی ملازمین کی آمد کو کم کرنے اور مقامی افرادی قوت پر انحصار بڑھانے کے لیے امیگریشن قوانین میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
برطانیہ کی مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ سال 2027 سے غیر ملکی ورکرز کو سپانسر کرنے کے لیے اہل مڈ-اسکلڈ ملازمتوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی جائے۔
ایم اے سی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں مستقبل کی ‘عارضی قلت کی فہرست’ میں فی الحال شامل 52 پیشوں کو کم کر کے صرف 28 پیشے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ نے اب عام طور پر اسکلڈ ورکر ویزا روٹ کو صرف گریجویٹ سطح کی ملازمتوں تک محدود کر دیا ہے۔ تاہم، جو پیشے عارضی قلت کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں، انہیں RQF لیول 3 سے 5 کے درمیان ہونے کے باوجود ویزا سپانسرشپ کی خصوصی رعایت حاصل ہوتی ہے۔
نئی مجوزہ فہرست میں ڈیٹا انالیسس، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور کنسٹرکشن سمیت دیگر تکنیکی شعبوں کے 20 پرانے پیشے برقرار رہیں گے جبکہ 8 نئے پیشے شامل کیے جائیں گے۔
کاروباری سیلز، ہیومن ریسورس ، قانونی خدمات، ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ کے کئی پیشوں کو فہرست سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کریئیٹو سیکٹر سے وابستہ مصنفین، لکھاریوں اور فوٹوگرافرز کے لیے بھی سپانسرشپ ختم ہونے کا امکان ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ان 28 پیشوں پر مشتمل نئی لسٹ کو ابتدائی طور پر یکم جنوری 2027 سے 30 جون 2028 تک یعنی صرف 18 ماہ کے لیے نافذ کیا جائے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ برطانوی صنعتیں غیر ملکی لیبر پر انحصار کرنے کے بجائے برطانیہ کے اندر ہی مقامی لوگوں کو بھرتی کریں اور انہیں تربیت فراہم کر کے افرادی قوت کی کمی کو پورا کریں۔
اگر برطانوی حکومت ان سفارشات کو تسلیم کر لیتی ہے تو ان کمپنیوں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جو درمیانی مہارت والے کاموں کے لیے غیر ملکیوں پر انحصار کرتی ہیں۔
تاہم، رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی کا اثر پہلے سے برطانیہ میں موجود سپانسرڈ ورکرز پر نہیں پڑے گا اور وہ قانون کے مطابق اپنے ویزے کی توسیع اور مستقل رہائش کے لیے اہل رہیں گے۔
