قلم جب سچ لکھنے لگے تو سیاہی نہیں، خون بہتا ہے۔
تاریخ کی سب سے دردناک سطریں وہ نہیں ہوتیں جو دشمن کے حملوں سے لکھی جاتی ہیں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جو اپنے ہی لوگوں کے لہو سے رقم کی جاتی ہیں۔ آج آزاد کشمیر کی فضاؤں میں اگر بارود کی بو محسوس ہو رہی ہے، اگر ماؤں کی آنکھوں میں نیند کے بجائے آنسو ہیں، اگر نوجوانوں کے ہاتھوں میں خوابوں کے بجائے کفن کا اندیشہ ہے، تو یہ صرف ایک سیاسی بحران نہیں، بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کے ٹوٹنے کی ایک خطرناک علامت ہے۔
ریاست کی اصل طاقت بندوق کی نالی میں نہیں، عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا جائے، جب سوال پوچھنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جائے، اور جب احتجاج کا جواب طاقت سے دیا جائے، تو جمہوریت کمزور اور معاشرہ زخمی ہو جاتا ہے۔
آزاد کشمیر کا ہر شہری یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ اگر آئین عوام کو اظہارِ رائے، احتجاج اور انصاف کا حق دیتا ہے، تو پھر ان حقوق کی حفاظت کون کرے گا؟ کیا ریاست کا کام صرف نظم و ضبط قائم رکھنا ہے، یا شہریوں کے جان و مال، عزت اور بنیادی آزادیوں کا تحفظ بھی اسی کی اولین ذمہ داری ہے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون کی بالادستی ہر معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ اگر احتجاج کے دوران کسی جانب سے تشدد، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان، یا قانون شکنی ہوتی ہے تو اس کی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ لیکن قانون کی عملداری اور طاقت کے بے جا استعمال کے درمیان ایک باریک مگر نہایت اہم لکیر موجود ہے۔ یہی لکیر ریاست کی اخلاقی حیثیت کا تعین کرتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ایک فریق کو مکمل مجرم اور دوسرے کو مکمل معصوم قرار دے دیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر اس واقعے کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں جس میں انسانی جان ضائع ہوئی یا بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
قومیں خوف سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔ بندوق وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن دلوں میں اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔ اگر ریاست اپنے ہی شہریوں کی آواز سننے کے بجائے انہیں دبانے کو ترجیح دے گی تو تاریخ ایسے فیصلوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
آزاد کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، قربانیوں، امیدوں اور آزادی کی علامت ہے۔ اس سرزمین کے لوگوں نے ہمیشہ عزت، وقار اور حق کی بات کی ہے۔ ان کی آواز کو سننا کمزوری نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور باوقار ریاست کی نشانی ہے۔
آج اگر کسی ماں کی گود اجڑی ہے، کسی بچے کا باپ واپس نہیں آیا، کسی نوجوان کا مستقبل خوف کے سائے میں گم ہو گیا ہے، تو یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، پوری قوم کا زخم ہے۔ ایسے زخم نعروں سے نہیں، انصاف، مکالمے اور جوابدہی سے بھرتے ہیں۔
آئیے ہم نفرت کی دیواریں بلند کرنے کے بجائے انصاف کے دروازے کھولیں، طاقت کے بجائے مکالمے کو اختیار کریں، اور اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن سمجھیں۔ کیونکہ تاریخ آخرکار اسی کے حق میں فیصلہ دیتی ہے جو طاقت نہیں، انصاف کا ساتھ دیتا ہے۔
