Screenshot
سپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے سیاسی سال کے اختتام پر مونکلوا محل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے موسمیاتی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے اتحاد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے جنگلاتی آگ سے متاثرہ علاقوں کو شدید متاثرہ زون قرار دینے اور متاثرہ کارکنوں اور کمپنیوں کے لیے نئی امداد متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا۔
سانچیز نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا انکار اس بحران کو مزید خطرناک بناتا ہے اور ملک کو کمزور کرتا ہے، اس لیے 2026 کے دوران ایک قومی سطح کا معاہدہ ضروری ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر سیاسی جماعتوں سے بات چیت اور ممکنہ طور پر علاقائی سربراہان کی کانفرنس بلانے کی پیشکش بھی کی، تاہم انہوں نے پی پی اور ووکس کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے معیشت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سپین یورپ کی بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا ہے اور 2026 میں 2.6 فیصد شرح نمو متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں روزگار کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور بے روزگاری کی شرح 10 فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔
دوسری جانب، حکومت کو مختلف عدالتی مقدمات اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا بھی ہے، جن میں ان کی اہلیہ بیگونیا گومیز، سابق وزیراعظم زاپاتیرو اور دیگر سوشلسٹ رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں پی پی اور ووکس نے ان معاملات پر سانچیز سے استعفیٰ اور قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اتحادی جماعتیں مزید وضاحتیں مانگ رہی ہیں۔
اس کے باوجود، حکومت کا کہنا ہے کہ سانچیز اپنی مدت جولائی 2027 تک مکمل کریں گے۔ حکومت آئندہ بجٹ، مالیاتی نظام میں اصلاحات اور ہاؤسنگ قانون جیسے اہم منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی جنگلاتی آگ سے متاثرہ افراد اور کاروباروں کے لیے نئی مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی تاکہ ملازمین کی تنخواہیں اور سوشل سیکیورٹی تحفظ برقرار رہے۔
