اگر آپ نظریاتی ہیں تو یہ تحریر آپ کو رولا دے گی !
ورلڈ کپ فائنل کے بعد سوشل میڈیا پر سپین کے ایک سٹرائیکر کی کہانی چل رہی ہے۔ اس کا نام بورخا ایگلیسیاس ہے جبکہ مداح اسے پیار سے پانڈا کہتے ہیں۔
بھائی بورخا تینتیس سال کے تجربہ کار کھلاڑی ہیں، اس وقت سیلٹا ویگو کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ دراز قد، مضبوط جسم والے سینٹر فارورڈ، جنہوں نے اس سیزن لا لیگا میں چودہ گول داغے اور اپنی کلب کے سب سے بڑے سکورر رہے۔ بورخا مگر صرف میدان کے اندر نہیں، میدان سے باہر بھی اپنی دو ٹوک باتوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ فلس طین کے حق میں ان کا مؤقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
فائنل سے پہلے کسی صحافی نے پوچھ لیا کہ اگر سپین جیت گیا اور میڈل کی تقریب میں ٹرمپ سے ہاتھ ملانا پڑا تو کیا کرو گے؟ بورخا مسکرائے اور بولے: میں جیل نہیں جانا چاہتا۔ بس یہی چاہوں گا کہ یہ ملاقات ایسے وقت ہو جب ہم سب بہت خوش ہوں، اور یہ اتنی جلدی گزر جائے کہ میں اسے بھول سکوں۔

پھر بالکل ویسا ہی ہوا جیسا بورخا نے کہا تھا۔
فائنل میں سپین نے ارجنٹینا کو ایک صفر سے ہرا کر ورلڈ کپ اٹھا لیا۔ میڈل تقسیم ہونے لگے تو بورخا کی باری بھی آئی۔ انہوں نے تمغہ لیا، ٹرمپ کا ہاتھ رسمی سا تھاما، آنکھوں میں بالکل نہ دیکھا، کوئی بات نہ کی، اور سیدھے آگے نکل گئے۔ چند سیکنڈ کا یہ منظر اتنا واضح تھا کہ ویڈیو منٹوں میں سوشل میڈیا پر پھیل گئی، اور لوگوں نے اسے بورخا کے اسی بیان کی عملی تصویر قرار دیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بورخا اس ٹورنامنٹ میں زیادہ تر بینچ پر ہی بیٹھے رہے، فائنل سمیت کئی میچوں میں انہیں اتارا تک نہ گیا۔ مگر ٹرافی اٹھانے کے بعد سب سے زیادہ چرچا انہی کے اس مختصر سے مصافحے کا ہوا۔
یہی تو بورخا ایگلیسیاس ہیں۔ میدان میں کھلاڑی، اور میدان سے باہر اپنے اصولوں پر ڈٹا ہوا انسان۔ میں سمجھتا ہوں ایسے کردار کو احترام سے دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ آج کے دور میں اپنی بات پر قائم رہنا کوئی آسان کام نہیں۔ کاش ہمارے کھیل کے میدانوں میں بھی ایسے کردار زیادہ ہوں جو مصلحت سے پہلے اصول کو رکھیں۔
