Screenshot
اسپین کی ورلڈ کپ جیت ایک اجتماعی خوشی کا لمحہ تھی، خاص طور پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے، جنہوں نے ارجنٹینا کو شکست دے کر تاریخ میں دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ فائنل سیٹی بجتے ہی اسٹیڈیم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کھلاڑیوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے اپنے بیج پر ایک اور ستارہ سجا لیا ہے۔
جشن کے دوران کھلاڑی اپنے اہلِ خانہ کے پاس گئے، جو خوشی منانے کے لیے میدان میں بھی اتر آئے۔ انہی میں انیس گارسیا بھی شامل تھیں، جو اپنے بوائے فرینڈ لامین یامال کے ساتھ رہیں۔ تاہم، جشن کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف شدید تنقید اور نفرت انگیز تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جہاں انہیں توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام دیا گیا۔
دو دن تک مسلسل تنقید اور منفی تبصروں کا سامنا کرنے کے بعد، انیس نے ایک سخت بیان جاری کیا اور لوگوں سے احترام کی اپیل کی۔ انہوں نے ایک طویل پیغام میں کہا کہ وہ اس رویے پر حیران ہیں اور یاد دلایا کہ وہ بھی ایک انسان ہیں جن کے جذبات ہیں۔
انہوں نے لکھا “میں کئی گھنٹوں سے تبصرے پڑھ رہی ہوں، اور اگرچہ میں مضبوط بننے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں۔ اس اکاؤنٹ کے پیچھے کوئی ہے جو محسوس کرتا ہے، روتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، اور صرف اس لیے انسان ہونا نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ ایک رشتے میں ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر کوئی ہر کسی کو پسند نہیں کرتا، اور میں احترام کے ساتھ کی گئی تنقید کو قبول کرتی ہوں۔ لیکن رائے دینے اور کسی کو ذلیل کرنے، گالیاں دینے یا برا چاہنے میں بہت فرق ہوتا ہے، خاص طور پر جب آپ اس شخص کو جانتے بھی نہیں۔”
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھ پاتیں کہ صرف اپنے بوائے فرینڈ کی حمایت کرنے پر اتنا بڑا ردعمل کیوں سامنے آیا۔ وائرل ویڈیوز میں کچھ لمحوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جن کی بنیاد پر لوگوں نے ان کے رشتے کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع کر دیں، حالانکہ چند سیکنڈ کی ویڈیوز حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔
انہوں نے مزید کہا “میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہی، نہ ہی میں نے کسی سے کچھ چھینا ہے۔ میں صرف اپنی زندگی گزار رہی ہوں۔ میں سب سے درخواست کرتی ہوں کہ کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اسکرین کے دوسری طرف بھی ایک انسان ہے، جس کے خاندان، دوست، احساسات اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے الفاظ کسی پر کتنا اثر ڈال سکتے ہیں۔ میں بھی ایک عورت ہوں جس کے جذبات ہیں، ایک خاندان ہے جو یہ سب پڑھتا ہے، اور میرے بھی اچھے اور برے دن ہوتے ہیں، جیسے ہر کسی کے ہوتے ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی کو قائل کرنا نہیں بلکہ صرف ہمدردی اور سمجھ بوجھ کی اپیل کرنا ہے، تاکہ سوشل میڈیا پر ہونے والی نفرت کو ختم کیا جا سکے اور وہ اپنی زندگی معمول کے مطابق جاری رکھ سکیں۔
