لاہور/ پاکستان کے شہر لاہور میں ٹرانس جینڈر خواتین کیلئے روزگار کا آغاز کیا گیا ہے اور اس کا نام”شی ڈرائیوز بائیک سروس”ہے جو خواتین کے لیے محفوظ سفر اور ٹرانس جینڈر خواتین کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔لاہور میں شروع کی گئی ’’شی ڈرائیوز‘‘ سروس صرف خواتین کے لیے ہے جبکہ اس کے ذریعے ٹرانس جینڈر خواتین کو بھی باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ٹرانس جینڈر ڈرائیورز ’’شی ڈرائیوز‘‘ سروس کی ایپ سے منسلک ہیں اور وہ خواتین اور ٹرانس جینڈرکوسروس مہیا کرتے ہیں۔’’شی ڈرائیوز‘‘ سروس خواتین اور ٹرانس جینڈر کیلئے ایک محفوظ سروس ہےکیونکہ ہمیشہ مرد ڈرائیورز کے ساتھ خواتین پریشانی میں رہتی ہیں اور ڈرائیورز انہیں ہراساں کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔مرد بھی بائیک سروس چلاتے ہیں مگر کچھ شرپسند خواتین کو ہراساں کرنے کیلئے بار بار اور جان بوجھ کربریکیں لگاتے تھے تاکہ ان کا جسم مرد کے جسم سے ٹچ ہو اور دوران سروس خواتین سے انکا پتہ مانگتے تھے اور انکی پرائیویٹ زندگی سے متعلق سوال کرتے تھے۔”شی ڈرائیوز بائیک سروس”چلانے والی کمپنی والے ڈرائیورز کو ڈاکٹر سے چیک کراتے ہیں تاکہ کوئی شرپسند سروس کا حصہ نہ بنے۔اب تک ’’شی ڈرائیوز‘‘ سروس سے اڑھائی سو سے تین سو لوگ بطور ڈرائیورز وابستہ ہوچکے ہیں اور چار سے پانچ ہزار خواتین اس سروس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
