Screenshot
کیناری جزائر/ کیناری جزائر کے جنوب میں ایک تارکینِ وطن کی کشتی کو 26 دن تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد ریسکیو کر لیا گیا۔ کشتی میں پانچ لاشیں اور 44 زندہ بچ جانے والے افراد ملے ہیں۔ کشتی میں مجموعی طور پر 128 افراد سوار تھے، اس لیے خدشہ ہے کہ سفر کے دوران 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے۔
سمندری ریسکیو ادارے کے مطابق ایک طیارے نے بدھ کی شام تقریباً 6:40 بجے ایک خستہ حال کشتی کو سمندر میں بے یار و مددگار حالت میں دیکھا۔ یہ کشتی گرین کیناریا کے ارگینگوئن سے تقریباً 104 کلومیٹر جنوب مغرب میں موجود تھی۔
ریسکیو جہاز نے آدھی رات سے پہلے کشتی میں موجود 44 افراد کو بچا لیا۔ تمام زندہ بچ جانے والے افراد سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے مرد تھے۔
ریڈ کراس کے ہنگامی حالات کے کوآرڈینیٹر خوسے انتونیو رودریگیز ویرونا نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل تھا کیونکہ سمندر کی صورتحال خراب تھی۔ زندہ بچ جانے والے افراد کئی دن تک سمندر میں بھٹکنے کے باعث انتہائی تھکے ہوئے تھے۔
خراب موسم کے باعث ریسکیو ٹیمیں کشتی میں موجود پانچ لاشوں کو بھی سمندر سے نکال نہیں سکیں۔ اس وقت علاقے میں تقریباً 20 ناٹ کی رفتار سے ہوائیں اور ڈھائی میٹر بلند لہریں موجود تھیں۔
ہسپانوی سول گارڈ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سمندر سے تین افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں نکالا۔ دو افراد کو ڈاکٹر نیگرین اسپتال جبکہ ایک کو انسولر اسپتال منتقل کیا گیا۔ مزید تین افراد کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا۔ مجموعی طور پر چھ افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
سول گارڈ کے مطابق کشتی 7 اگست کو گیمبیا سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں 100 سے زائد افراد سوار تھے۔ مسافروں میں چار خواتین اور ایک بچی بھی شامل تھیں۔
زندہ بچ جانے والوں نے ریڈ کراس کو بتایا کہ وہ گیمبیا سے 100 سے زیادہ افراد کے ساتھ کیناری جزائر کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن سفر کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے۔
