Screenshot
میڈرڈ / امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیوتا میں مراکش سے ہزاروں تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کے معاملے پر اسپین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسپین کو ایک ’’تباہ حال ملک‘‘ قرار دیا ہے۔
برطانوی ٹی وی چینل جی بی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ سیوتا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’’اسپین ایک تباہ حال ملک بن جائے گا۔‘‘ انہوں نے اسپین کے ساتھ نیٹو کے معاملے پر اپنے اختلافات کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسپین نیٹو کے لیے وہ رقم ادا نہیں کرتا جو اسے کرنی چاہیے۔
سیوتا کی صورتحال کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھنا بہت افسوسناک ہے۔‘‘ انہوں نے برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو بھی اپنے مسائل کا سامنا ہے، لیکن وہاں اس طرح ہزاروں افراد ملک میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کر رہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
امریکی صدر اس سے قبل بھی سیوتا کے بحران پر اسپین کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ جولائی کے آخر میں مراکش سے تقریباً 80 ہزار تارکین وطن کے بڑے پیمانے پر سیوتا کی طرف آنے کے بعد ٹرمپ نے اس صورتحال کی وجہ اسپین کے ’’کمزور قوانین‘‘ اور ’’ناقص حکومتی انتظام‘‘ کو قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ اسپین کی حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے افراد کے ساتھ کیا کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسپین کی سپریم کورٹ کے جولائی کے فیصلے سے متعلق اس دعوے کا بھی حوالہ دیا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ سمندر کے راستے اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کو واپس بھیجنے پر پابندی ہے۔ تاہم اسپین کی حکومت نے ایسی باتوں کو ان جھوٹی خبروں کی مثال قرار دیا ہے جنہوں نے سیوتا میں بڑے پیمانے پر داخلے کی ترغیب دینے میں کردار ادا کیا۔
