Screenshot
میڈرڈ/ اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت سیوتا اور میلیا کو یورپی یونین کے انتہائی دور افتادہ خطوں (RUP) کا درجہ دلانے کے لیے کوشش کرے گی۔ یہ اعلان سیوتا میں جولائی کے آخر میں ہونے والی بڑے پیمانے پر تارکین وطن کی آمد کے بعد پیدا ہونے والے سرحدی بحران کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ RUP کا درجہ ملنے سے دونوں خودمختار شہروں کو یورپی یونین کی جانب سے خصوصی اقتصادی، مالیاتی اور ترقیاتی سہولیات حاصل ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اسپین چاہتا ہے کہ سیوتا اور میلیا کو یورپی کمیٹی آف دی ریجنز میں بھی فعال نمائندگی دی جائے تاکہ دونوں شہروں کی آواز یورپی اداروں تک براہِ راست پہنچ سکے۔
یورپی یونین میں اس وقت نو ایسے خطے موجود ہیں جنہیں انتہائی دور افتادہ خطوں کا درجہ حاصل ہے۔ اسپین کا واحد RUP علاقہ کیناری جزائر ہے، جبکہ پرتگال کے ایزورس اور مادئیرا اور فرانس کے کئی بیرونِ یورپ علاقے بھی اس نظام میں شامل ہیں۔
RUP علاقوں کو ان کی جغرافیائی دوری، محدود رقبے، معاشی مشکلات اور بیرونی دنیا پر انحصار کے باعث خصوصی مالی امداد اور ٹیکس سہولیات دی جاتی ہیں۔ کیناری جزائر میں VAT کے بجائے کم شرح والا مقامی ٹیکس نافذ ہے اور بعض کمپنیوں کو کارپوریٹ ٹیکس میں نمایاں رعایت حاصل ہے۔
سیوتا اور میلیا پہلے ہی خصوصی مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دونوں شہروں میں VAT کے بجائے IPSI نافذ ہے، جبکہ مقامی کمپنیوں کو کارپوریٹ ٹیکس میں 50 فیصد رعایت اور رہائشیوں کو انکم ٹیکس میں 60 فیصد تک کٹوتی حاصل ہے۔ شہریوں کو اسپین کے دیگر علاقوں تک ہوائی اور بحری سفر کے لیے 75 فیصد رعایت بھی ملتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق سیوتا اور میلیا روایتی جغرافیائی معیار کے تحت RUP کا درجہ حاصل کرنے کے لیے مکمل طور پر اہل نہیں، کیونکہ یہ یورپ سے ہزاروں کلومیٹر دور نہیں ہیں۔ اس کے باوجود محدود رقبہ، معاشی مشکلات اور بیرونی انحصار کو اسپین اپنی درخواست کے حق میں اہم دلائل کے طور پر پیش کرے گا۔
