عورتوں کو محکوم بنانے سے آزادی۔۔۔تحریر۔۔سوسانہ دیاز
Screenshot
ایک طویل عرصے سے اس جبر کو عورتوں کی مذہبی آزادی اور ذاتی انتخاب کا نام دے کر پیش کیا جاتا رہا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔بطور ایک بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اور نسوانیت (فیمینزم) پر یقین رکھنے والی عورت، میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب کی پابندی کے حوالے سے جاری بحث کو نہ تو مذہبی آزادی کے تناظر میں سمجھتی ہوں، اور نہ ہی اس نسل پرستانہ اور اسلاموفوبیا پر مبنی انداز میں، جو پارلیمان میں ووکس (Vox) کی جانب سے پیش کی گئی تجویز میں نظر آیا۔کافی عرصے سے اس پابندی اور جبر کو عورتوں کے آزادانہ مذہبی انتخاب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قرآن میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں جو عورتوں کو اپنا چہرہ یا پورا جسم ڈھانپنے کا پابند بناتا ہو۔ جن آیات میں حیا اور پردے کا ذکر ہے، وہ سینہ ڈھانپنے اور زیب و زینت کو چھپانے کی تلقین کرتی ہیں، جبکہ اس سے آگے کی پابندیاں انتہاپسند عناصر کی طرف سے عائد کی گئی ہیں، جن کا مقصد عورتوں کو سماجی اور نجی زندگی میں محکوم اور زیرِ اثر رکھنا ہے۔جو لوگ مذہبی آزادی کے نام پر اس معاملے میں ہچکچاتے ہیں، انہیں ایران اور افغانستان کی ان عورتوں کو دیکھنا چاہیے جو اپنی آزادی کے لیے اپنے بال کھول کر احتجاج کرتی ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قیمت ان کی جان بھی ہو سکتی ہے۔ مہسا امینی کے قتل کے بعد ہونے والے احتجاج اور “عورت، زندگی، آزادی” کا نعرہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ پابندیاں اکثر تشدد اور جبر کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔مصنفہ نجات الہاشمی کے مطابق، عورتوں پر ایسے اصول اپنانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے جو انہوں نے آزادانہ طور پر منتخب نہیں کیے ہوتے۔ وہ ان لباسوں کو “چلتی پھرتی قید” قرار دیتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ مسئلہ سیکیورٹی یا معاشرتی ہم آہنگی کا نہیں بلکہ ان عورتوں کا ہے جو اس جبر کا شکار ہوتی ہیں۔ہسپانوی پارلیمان میں اس تجویز کو مسترد کیا جانا، جو مسلمان عورتوں کی آزادی اور وقار کے لیے مؤثر نہیں تھی، اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ جمہوری قوتیں ایک نیا قانون پیش کرتیں، جیسا کہ یورپ کے دیگر ممالک میں کیا گیا ہے۔یہ جبر صرف گھر تک محدود نہیں رہتا بلکہ سماج تک پھیل جاتا ہے۔ یورپی جامعات کی تحقیقات کے مطابق برقع اور نقاب عورتوں کو معاشرتی تنہائی، علیحدگی اور آزادی کے نقصان کا شکار بناتے ہیں۔ بعض عورتوں نے بتایا کہ وہ خود کو “دنیا سے مٹا ہوا” اور “غیر مرئی” محسوس کرتی تھیں، جبکہ چہرہ ظاہر کرنے سے انہیں اپنی شناخت، تعلیم اور آزاد زندگی دوبارہ حاصل ہوئی۔آئین کی دفعہ 16 کے تحت مذہبی آزادی کا احترام ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی روایات کو نظرانداز کیا جائے جو عورتوں کی محکومی اور تابع داری کا سبب بنتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انتہاپسند دائیں بازو کا اصل مقصد خوف، نفرت اور تقسیم کو فروغ دینا ہے اور مہاجرت کو عدم تحفظ سے جوڑنا ہے۔اسی لیے، اگر پابندی لگانے کا کوئی فیصلہ کیا جائے، جیسا کہ فرانس، ڈنمارک، پرتگال اور بیلجیم میں کیا گیا ہے، تو اس کے ساتھ تعلیمی، تربیتی اور سماجی معاونت کی پالیسیاں بھی ہونی چاہئیں تاکہ عورتوں کو سہارا دیا جا سکے اور انہیں مزید بدنامی یا امتیاز کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اصل سوال یہ نہیں کہ یہ لباس قانونی ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کیوں اور کس مقصد کے لیے نافذ کیا جاتا ہے۔ آزادی کا مطلب آزاد ہونا اور خود کو آزاد محسوس کرنا ہے۔ اسے کبھی بھی عورتوں کو دبانے، محکوم بنانے یا ان کی شناخت ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو وہ آزادی نہیں بلکہ ایک مذہبی جبر کا نظام ہوتا ہے۔