اسپین 1981 کی بغاوت کی کوشش سے متعلق خفیہ فائلیں منظرِ عام پر لائے گا

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ /اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 1981 میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی کوشش سے متعلق خفیہ دستاویزات کو منظرِ عام پر لائے گی، جس نے اس وقت ملک کی نئی جمہوریت کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا۔

پیدرو سانچیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان دستاویزات کو عوام کے سامنے لانا اسپین کے شہریوں کے ساتھ ایک تاریخی قرض کی ادائیگی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا:“جمہوریتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماضی کو جانیں تاکہ ایک زیادہ آزاد مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔”

یہ فائلیں بدھ کے روز جاری کی جائیں گی۔ ان کی اشاعت کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ توقع ہے کہ ان دستاویزات سے سابق بادشاہ Juan Carlos I کے کردار کے ساتھ ساتھ خفیہ اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں گی۔

تاہم، سابق انٹیلی جنس چیف البرتو سائز نے 2022 میں ایک انٹرویو کے دوران خبردار کیا تھا کہ اس سازش سے متعلق کئی اہم دستاویزات غائب ہو چکی ہیں۔

1981 کی بغاوت کی کوشش کیا تھی؟

اس ناکام بغاوت کے دوران گواردیا سول کے لیفٹیننٹ کرنل Antonio Tejero اور اس کے ساتھیوں نے میڈرڈ میں پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے فضا میں فائرنگ کی اور اراکینِ پارلیمنٹ کو تقریباً 17 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔

اس کارروائی کا مقصد نئے جمہوری حکومت کی حلف برداری روکنا اور بادشاہ کے نام پر دوبارہ آمریت قائم کرنا تھا۔

تاہم یہ سازش اس وقت ناکام ہو گئی جب بادشاہ خوان کارلوس اول نے براہِ راست ٹی وی خطاب میں جمہوری حکومت اور آئینی نظام کی حمایت کا اعلان کیا، جس کے بعد بغاوت کرنے والوں کو شکست ہو گئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے