پدرو سانچز پریز-کاستیخون، وزیرِ اعظم اسپین،تحریر سید ایاز حسین

Screenshot

Screenshot


انیس سو بیاسی سے دوہزار پندرہ تک ہسپانوی سیاست کو مختلف اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا ۔ دو قومی سیاسی جماعتوں سے کوئی ایک مطلق اکثریت حاصل کرکے حکومت کرتی رہی، کبھی انتخابات بھی قبل از وقت کرانے پڑے، ان تمام مشکلات کے باوجود یک جماعتی مستحکم حکومتیں وجود میں آتی رہیں۔ تاہم دوہزار پندرہ میں یہ صورتِ حال یکسر تبدیل ہوگئی۔
دوهزار پندرہ کے انتخابات میں ، جو وزیرِ اعظم ماریانو راخوۓ، PP، کی سربراہی میں منعقد کیے گئے، پہلی دفعہ ایک معلق پارلیمان وجود میں آئی اور کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت نہ حاصل کرسکی۔ اِس بنا پر اگلے سال یعنی دوہزار سولہ میں دوبارہ انتخابا ت کرائے گئے اور PP ایک اقلیتی حکومت بنا نے میں کامیاب ہوگئی۔ اقلیتی حکومت اور بدعنوانی کے الزامات کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ اپوزیشن لیڈر، پیدرو سانچزنے دوہزار اٹھارہ میں ایک کامیاب تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جس کے نتیجے میں ماریانو راخوۓ کا ہٹا دیا گیا اور اپوزیشن لیڈر نے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھایا۔یہ ہسپانوی جمہوریت کی تاریخ کی پہلی کامیاب تحریکِ اعتماد قرار پائی۔
دوہزار انیس کے عام انتخابات میں کوئی بھی جماعت اکثریت نہ حاصل کرسکی جس کی وجہ سے سوشلسٹ حکومت بہت سی علاقائی جماعتوں سے اتحاد کرکے اسپین کی پہلی اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی اور تادمِ تحریر سوشلسٹ جماعت ایک اتحادی حکومت کی سربراہی کررہی ہے۔اتحادی حکومت کا وجود محترم پیدرو سانچز کی سیاسی بلوغت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیدرو سانچز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اپوزیشن جماعت کے مقابلے میں کم نشستیں حاصل کرنے کے باوجود وہ حکومت کے سربراہ ہیں اور پچھلے آٹھ سال سے حکمران ہیں۔
زیرِ نظر مضمون اسپین کے موجودہ وزیرِاعظم محترم جناب پدرو سانچز کے بارے میں ہے ۔غیر معمولی حالات میں اِن کی شاندار خدمات، اور متضاد خیالات رکھنے والی متعدد سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک بذاتِ خود ایک ستائِشی کارنامہ ہے۔ اس مضمون میں وزیرِ اعظم پیدرو سانچز کی زندگی اور ان کی سیاسی جدوجهد کے بارے میں کچھ معلومات سپردِ قلم کررہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ سیاسی نظریات رکھنے والے ہمارے اکابرین پیدرو سانچز کی گفت و شنید میں مہارت اور سیاسی بلوغت کا برملا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
پیدرو سانچیز پیریز-کاستیخون 29 فروری 1972ء کو میڈرڈ کے علاقے تیتوان میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم میڈرڈ میں اور نوجوانی میں ہی انگریزی زبان کی تعلیم ڈبلن سے مکمل کی۔

انیس سو پچانوے (1995) میں انہوں نے کمپلوتینسے یونیورسٹی، میڈرڈ سے گریجویشن مکمل کی۔ گریجویشن سے دو سال قبل یعنی 1993ء کے عام انتخابات میں فیلیپے گونزالیز کی کامیابی کے بعد وہ ہسپانوی سوشلسٹ ورکرز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک عالمی مشاورتی ادارے میں کام کی غرض سے نیویارک میں رہائش اختیار کرلی۔ 1998ء میں انہوں نے سیاست اور معاشیات میں دوسری ڈگری حاصل کی اور برسلز کی اوپن یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔ بعد ازاں یونیورسٹی آف ناورّا ، اسپین سے بزنس لیڈرشپ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کامیلوسے خوسے سیلا، میڈرڈ سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ بھی حاصل کی۔

ان کے والد، پیدرو سانچز فرنانڈیز، اور والدہ، میگدالینا پریز-کاستیخون، دونوں سرکاری ملازم تھے۔ والد نے وزارتِ ثقافت کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پرفارمنگ آرٹس اینڈ میوزک میں منیجر کی خدمات انجام دیں، جبکہ والدہ نے سوشل سیکیورٹی نظام میں کام کیا اور بعد ازاں وکالت میں اپنی تعلیم مکمل کی۔

میڈرڈ کے خوشحال خاندان سے تعلق نے سانچیز کی ابتدائی زندگی پر مثبت اثر ڈالا۔ والدین کی رہنمائی نے ان میں فکری جستجو اور عزم کو فروغ دیا۔ خصوصاً والدہ نے ان کی زندگی اور سیاسی کیریئر میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ان کی اقدار، ثابت قدمی اور عوامی خدمت کے جذبے کی بنیاد مضبوط تر ہوئی۔

سیاسی کیریئر
پیدرو سانچز کی سیاسی زندگی کا آغاز بہت ہی معاون، حوصلہ افزا اور بااثر خاندانی ماحول میں ہوا۔ اگست 2004ء میں میڈرڈ – سٹی کونسل کے رکن کے طور پر سیاست میں داخل ہوئے۔ دراصل انہوں نے دوہزار تین میں ہسپانوی سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار کے طور پر میڈرڈ سٹی کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم متناسب نمائندگی کے امیدواروں کی فہرست میں آخری امیدوار ہونے کی وجہ سے منتخب نہ ہوسکے۔ خوش قسمتی سے اگلے ہی سال یعنی 2004ء میں دو کونسلرز کے استعفے کے بعد، سانچز شراکت کے اصول کے تحت میڈرڈ کونسل میں شامل ہو گئے۔ دوهزار نو (2009) میں کانگریس کے رکن منتخب ہوئے۔ دوہزار چودہ (2014) میں انہیں ہسپانوی سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا اور اس طرح کانگریس میں حزبِ اختلاف کے رہنما مقرر ہو گئے۔ 2016ء کے انتخابات کے فوراً بعد سیکریٹری جنرل کے عہدہ سے استعفیٰ دیا تاہم جولائی 2017ء میں دوبارہ منتخب ہوئے اور اب تک اس منصب پر فائز ہیں۔ 25 نومبر 2022 ء سے آپ سوشلسٹ انٹرنیشنل کے نویں صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اقتدار تک رسائی،2018
مئی 2018ء میں مرکز -دائیں بازو کی جماعت پارتیدو پاپولر (PP) کے وزیرِ اعظم ماریانو راخوئے کی حکومت کو بدعنوانی اسکینڈل (گُرتیل کیس) کی وجہ سے شدید دھچکا لگا۔کانگریس میں اپوزیشن جماعت PSOE نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور سانچز متبادل امیدوار کے طور پر پیش ہوئے۔
یکم جون 2018ء کو کانگریس نے عدم اعتماد کی تحریک 180 ووٹوں کے ساتھ منظور کر لی، جس کے نتیجے میں ماریانو راخوئے کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور سانچز وزیرِ اعظم بن گئے۔ یہ ہسپانوی جمہوری تاریخ میں عدم اعتماد کی پہلی کامیاب تحریک تھی۔

عام انتخابات 2019
28 اپریل دوهزار انیس کے انتخابات
اگرچہ پیدروسانچز وزیرِاعظم مقرر ہوچکے تھے تاہم PSOE کے پاس مطلق اکثریت نہیں تھی اس لیے اس کی کامیابی کا انحصار بائیں بازو اور علاقائی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر مبنی تھا۔ شومئی قسمت 2019ء کے اوائل میں پیدرو سانچز کی حکومت قومی بجٹ کو کانگرس سے منظور کروانے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی اور 28 اپریل 2019ء کو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت 2019ء میں دو عام انتخابات منعقد ہوئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
28 اپریل، دوہزار انیس کے انتخابات اور اس کے نتائج​

سوشلسٹ پارٹی 123 نشستیں ​

پارتیدو پاپولر 66 نشستیں

یونیداس پودیموس 42 نشستیں

ووکس 24 نشستیں

اِن انتخابات کے نتیجہ میں PSOE کانگرس میں سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں تاہم ساده اکثریت حاصل نه کرسکی۔ پیدرو سانچز دیگر هم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے باوجود ایک مستحکم حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں نومبر 2019ء میں ایک بار پھر عام انتخابات منعقد ہوئے۔ 2015ء اور 2016ء کے عام انتخابات کی تاریخ 2019ء میں دوبارہ دہرائی گئی۔

10 نومبر 2019ء کے انتخابات

● PSOE نشستیں 120(28.25٪)
● PPنشستیں 87 (20.99٪)
● ووکس: نشستیں 52 (15.21٪)
● یونیداس پودموس: نشستیں 35 (12.97٪)
● سیودادانوس: نشستیں 10(6.86٪)
اس بار بھی PSOE مطلق اکثریت حاصل نہ کر سکی، لہٰذا حکومت بنانے کے لیے اسے دیگر سیاسی جماعتوں، علاقائی بلاکس وغیرہ کے ساتھ اتحاد قائم کرنا پڑا۔ طویل مذاکرات کے بعدPSOE نے پابلو ایگلیسیاس کی قیادت میں بائیں بازو کے اتحاد ” یونیداس پودیموس” کے ساتھ معاہدہ کرلیا تاکہ اسپین کی پہلی اتحادی حکومت تشکیل دی جا سکے۔ اس اتحاد کے عوض ، یونیداس پودموس کو متعدد وزارتیں اور نائب وزیرِ اعظم دوم کا عہدہ بھی دیا گیا۔

مختلف سیاسی جماعتوں اور گروپوں کے تعاون سے قائم پیدرو سانچز کی دوسری حکومت پھر بھی اپنی چار سالہ مدت پوری نہ کر سکی۔ مئی 2023ء کے علاقائی انتخابات میں PSOE کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا، جس کے نتیجے میں سانچز نے جولائی 2023ء میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا، تاہم وہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

23 جولائی 2023ء کے عام انتخابات

● PP: نشستیں 137 (33.1٪)
● PSOE: نشستیں 121 (31.7٪)
● Vox: نشستیں 33(12.4٪)
● Sumar: نشستیں 31(12.3٪)
● ERC: نشستیں 7(1.9٪)
● Junts: نشستیں 7 (1.6٪)
● EH Bildu: نشستیں 6(1.4٪)
● PNV: نشستیں 5(1.1٪)
● BNG: نشست 1 (0.6٪)
● دیگر: 2 نشستیں
حکومت کی تشکیل

اگرچہ 137 نشستیں جیت کر پارتیدو پاپولر (PP) سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، تاہم مطلق اکثریت یعنی 176 نشستیں حاصل نہ کر سکی۔ دوسری پارٹی PSOE نے 121 نشستیں حاصل کیں اور اس کی اتحادی جماعت سُمار (Sumar) نے 31 نشستیں حاصل کیں، یوں مجموعی طور پر 152 نشستیں بنیں، جو 350 رکنی کانگرس میں مطلق اکثریت سے کم تھیں۔ اسی طرح دائیں بازو کا بلاک (PP + وکس + اتحادی علاقائی جماعتیں) بھی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

چونکہ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت یا اتحاد اکثریت حاصل نہ کر سکا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے اتحادی حکومت کی تشکیل اور بیرونی حمایت ناگزیر اور واحد عملی راستہ بن گئی۔ اس دفعہ پھر سوشلسٹ پارٹی اور دیگر مرکز- بائیں بازو کی جماعتیں ایک سیاسی اتحاد کی تشکیل کے لیے اکٹھی ہو گئیں۔ سابقہ انتخابات کے نتائج کو مدِّنظر رکھتے ہوئے PSOE نے اس مرتبہ دو رخی حکمتِ عملی اپنائی:
اول، مرکز-بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنا؛
دوم، قومی اور علاقائی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کر کے اعتماد کے ووٹ میں ان کی غیر موجودگی یا حمایت کو یقینی بنانا۔

سخت اور طویل مذاکرات کے بعد درج ذیل سیاسی ترتیب طے پائی:

  • سُمار (بائیں بازوکا اتحاد) — اتحادی جماعت
  • اسکیئرا ریپبلکانا دے کاتالونیا (ERC) — حمایت / غیر موجودگی
  • باسک نیشنلسٹ پارٹی (PNV) — حمایت / غیر موجودگی
  • ایچ بی بیلدو (EH Bildu) — حمایت / غیر موجودگی
  • بی این جی (گالیشین نیشنلسٹ بلاک) — حمایت / غیر موجودگی
  • کولیسیون کاناریا (جزائرِ کینری کی جماعت) — حمایت / غیر موجودگی

ان انتظامات اور اتحاد کے بعد پیدرو سانچز پارلیمنٹ میں مطلوب ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس بار ان کی سب سے بڑی اتحادی جماعت سُمار تھی، جس کی قیادت یولاندا دیاث کر رہی تھیں۔ 17 نومبر 2023ء کو پیڈرو سانچیز نے وزیرِ اعظم کے طور پر تیسری مدت کے لیے حلف اٹھا لیا ۔

کانگریس میں موجودہ سیاسی منظرنامہ
پیدرو سانچز کی حکومت ایک اقلیتی اتحادی حکومت ہے یعنی PSOE اور سُمار یکجا ہونے کے باوجود بھی کانگریس میں مطلق اکثریت حاصل نہیں رکھتی ہیں۔ حمایت کرنے والی جماعتوں کے سیاسی ایجنڈے بہت مختلف اور بعض اوقات متضاد ہیں —مثلاً باسک اور گالیشین قوم پرستوں سے لے کر کاتالان علیحدگی پسند جماعتوں تک — لہذا حکومت کا استحکام اتحاد یوں کے درمیان نظم و نسق اور پیچیده پالیسیوں میں مسلسل مفاہمت پر ہی منحصر ہے۔مزید یہ کہ سینیٹ میں حزبِ اختلاف پارتیدو پاپولر (PP) کی اکثریت ہونے کے باعث بعض اصلاحات — خصوصاً وہ جن کے لیے سینیٹ کی منظوری ضروری ہے — مذاکرات اور سمجھوتے کے بغیر منظور کروانا زیادہ مشکل ہے۔

سُمار: پس منظر اور شناخت

ہسپانوی سیاسی منظرنامے کے بائیں بازو میں، سُمار ایک سیاسی اتحاد / انتخابی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی جگہ رکھتا ہے۔ اسے 2023ء کے عام انتخابات سے قبل یولاندا دیاث نے متعارف کرایا ، تاکہ مختلف بائیں بازو کی سیاسی قوتوں کو منظم اور متحد کیا جا سکے ،جوتادمِ تحریر اسپین کی دوسری نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ محنت ہیں۔

اس اتحاد کا نام، سُمار (ہسپانوی زبان میں جس کے معنی ہیں "اکٹھا کرنا” یا "جمع کرنا”)، اس کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے کہ متعدد بائیں بازو، ترقی پسند، ماحولیاتی اور علاقائی جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم تلے یکجا کرے۔ یہ ایک وسیع البنیاد بائیں بازو / ترقی پسند سیاسی اتحاد ہے جو سماجی انصاف، مزدوروں کے حقوق، دولت کی منصفانہ تقسیم، کم لاگت رہا اور فلاحی ریاست کے دائرہ کار میں توسیع پر زور دیتا ہے۔

سُمار کی بانی جماعتوں میں ازکیئردا یونیدا (Izquierda Unida / IU)، علاقائی بائیں بازو / ماحولیاتی سوشلسٹ / ترقی پسند قوتیں جیسے ماس میدرد(Más Madrid)، کومپرومیس (Compromís – والنسیا)، میس پر مایورکا (Més per Mallorca – بیلیریک)، اور دیگر چھوٹی علاقائی یا مقامی بائیں بازو / علاقائی جماعتیں شامل تھیں۔ اس طرح، سُمار نے اسپین کے مختلف علاقوں میں ایک وسیع بنیاد فراہم کی، جس سے اسے شہری ترقی پسند ووٹروں کے ساتھ ساتھ علاقائی -بائیں بازو کے ووٹروں تک رسائی حاصل ہوگئی۔مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ :

● بائیں بازو کا انتخابی اتحاد، قائم کردہ یولاندا دیاث
● مقصد: مختلف بائیں بازو، ترقی پسند، ماحولیاتی اور علاقائی جماعتوں کو متحد کرنا
● وعدے: ہفتہ وار کام میں کمی، کم از کم اجرت میں اضافہ، عوامی رہائش میں توسیع، سماجی تحفظ میں بہتری ۔
پید رو سانچز کا طرزِ قیادت

● یہ ایک اتفاق تھا کہ ابتدا ہی سے پیدرو سانچز نے سیاست اور اقتدار میں داخلہ، بلدیاتی یا عام انتخابات جیتنے کے بجائے، هسپانوی سیاسی نظام کے تحت شراکت (Co-option) اور پارلیمانی صف بندی میں تبدیلی کے ذریعے حاصل کیا۔
● ان کی قیادت کی ترجیحات میں معاشی ترقی اور روزگار، فلاحی ریاست کو مضبوط بنانا، سماجی مساوات کا قیام، رہائشی مسائل کا حل، اور سماجی حقوق و مساوات کی فراہمی شامل ہیں۔
● 2018ء سے پیدرو سانچز اور ان کی حکومت انہی اهداف کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔
● اس دوران، ان ترجیحات میں بہت سی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں ، جیسے پنشن میں اضافہ اور گھریلو آمدنی میں حقیقی بہتری۔
● تاہم، انہیں اپنے دورِ اقتدار میں سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے، کیونکہ ان کی حکومتیں نازک نوعیت کی تھیں اور پالیسی سازی میں انہیں کبھی مکمل آزادی حاصل نہ ہو سکی۔
● کچھ چیلنجز اور مشکلات کا بھی سامنا رہا مثلاً پارلیمان میں موجود تقسیم جس کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام اور حکمرانی میں مشکلات، پیدرو سانچز کے قریبی افراد کے گرد بد عنوانی کے اسکینڈلز اور الزامات، کاتالونیا کے ساتھ مسلسل کشیدگی، اور سماجی عزائم کو معاشی پابندیوں کے ساتھ متوازن رکھناشامل ہیں۔
PSOE میں بڑے سیاسی بحران اور اسکینڈلز

● اعلیٰ سطحی شخصیات سے متعلق متعدد بدعنوانی کے الزامات نے PSOE کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جنسی بدسلوکی اور ہراسانی کے الزامات کو سنبھالنے میں ناکامی نے پارٹی کے اندر غصے اور احتجاج کو جنم دیا، جس سے بنیادی ووٹر گروپوں کی حمایت ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
● ناقدین اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں جوابدهی کا پُرزور مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ PSOE کے اندر بھی پیدرو سانچز کی قیادت اور مستقبل کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
● اس سیاسی ہنگامے نے سانچز کی قیادت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور بظاہر وہ اپنی سیاسی کی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
اہم کامیابیاں

● وزیرِاعظم نے پنشن میں اضافہ کے لیے بھرپور کام کیا، جو مہنگائی (Inflation) سے منسلک ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہی سرکاری تعلیم کے لیے فنڈنگ بڑھائی اور صحت و تحقیق کے شعبے کے لیے مزید وسائل فراہم کیے۔
● بڑھتے ہوئے رہائشی مسائل پر بھی خصوصی توجہ دی۔ مزدور اصلاحات اور کم از کم اجرت (Minimum Wage) کے اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ کم از کم مہینہ وار اجرت (SMI) میں دسمبر 2018ء میں 22٪ اضافہ کیا گیا (~€736 سے ~€900 ماہانہ مجموعی)، جو 1977ء کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا۔ SMI میں اضافہ مسلسل جاری رہا اور 2023ء تک یہ تقریباً ~€1,080 ماہانہ مجموعی تک پہنچ گئی۔
● 2025 ء تک، حکومت کے مطابق، 2018ء کے مقابلے میں SMI میں مجموعی طور پر 61٪ اضافہ ہو چکا ہے۔
● حکومت قانونی ہفتہ وار کام کے اوقات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے: اتحادی معاہدے کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ کام کے اوقات 40 گھنٹے سے کم کر کے 37.5 گھنٹے فی ہفتہ (یا قریب) کیے جائیں تاکہ کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن بہتر بنایا جا سکے۔
پیدرو سانچز کی قیادت اور سیاسی حکمت عملی

پیدرو سانچز کی حکومت در اصل اقلیتی اتحادی حکومت کی مرہونِ منت ہے، جس کے استحکام کا انحصار پارلیمنٹ میں چھوٹی قوم پرست اور علاقائی جماعتوں کے ساتھ طے شدہ سیاسی مفاہمت پر ہے۔ یہ صورتحال حکومت کو نازک اور سیاسی طور پر کمزور بناتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غیر مستحکم سیاسی ماحول، فیصلوں اور طویل المدت منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اندرونی اختلافات جنم لے سکتے ہیں، اور حزبِ اختلاف—خاص طور پر پارتیدو پاپولر (PP) اور ووکس (Vox)—کا بڑھتا ہوا دباؤ سانچز کے سیاسی ایجنڈے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔حال ہی میں اتحادی جماعتوں نےبھی اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے جو ممکنہ حد تک مسائل پیدا کرسکتاہے۔

سُمار — شدید دباؤ، مگر حمایت سے دستبرداری نہیں
سُمار — حکومت کے دوسرے اتحادی پارٹنر نے علانیہ طور پر حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی (reshuffle) کا مطالبہ کیا ہے، جو PSOE کے بعض شخصیات سے متعلق حالیہ بد عنوانی اور جنسی هراسانی کے اسکینڈلز کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

سُمار نے زور دیا ہے کہ "ہم اس طرح مزید آگے نہیں بڑھ سکتے”۔ اگر ان مطالبات کو پورا نہ کیا گیا تو یہ ایک سنگین سیاسی خطرہ بن سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سُمار کی قیادت نے کہا ہے کہ وہ اصلاحات کے ذریعے حکومت کو بچانا چاہتے ہیں، نہ کہ اسے گرانا۔اس صورتحال کے تناظر میں PSOE نے فوری طور پر سُمار کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ اس تنازعے کو حل کیا جا سکے۔

خُنتس پر کاتالونیا — حمایت میں زیادہ سنگین دراڑ
کاتالان علیحدگی پسند جماعت خُنتس (Junts per Catalunya) نے اپنی مخالفت میں شدت پیدا کر دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں پید رو سانچز کی حمایت واپس لے رہی ہے۔ جماعت نے سانچز کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے اورحمایت ختم کرنے کے لیے اپنی نچلی سطح کی تنظیم کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خُنتس ایک حمایتی جماعت ہے، جس کی کانگریس میں سات نشستیں ہیں، تاہم حکومت میں اس کا کوئی وزارتی عہدہ نہیں ہے۔

دیگر چھوٹے اتحادی — محتاط، مگر مکمل علیحدگی نہیں
چھوٹی جماعتیں جیسے کولیسیون کانیریا اور دیگر نے اپنی حمایت پر نظرِ ثانی کی دھمکی دی ہے، تاہم انہوں نے تاحال علانیہ طور پر حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان نہیں کیا۔

ان تمام حالات کے پس منظر میں، 2027ء میں قبل از وقت عام انتخابات کے امکان کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔

اگلے عام انتخابات کب ہوں گے؟

آخری عام انتخابات 23 جولائی 2023ء کو منعقد ہوئے تھے۔ معمول کے مطابق چار سالہ پارلیمانی مدت کے اصول کے تحت، اگلے عام انتخابات جولائی 2027ء میں ہونے چاہئیں۔ زیادہ واضح طور پر، انتخابی فرمان (Election Decree) موجودہ مدت کے اختتام سے کم از کم 25 دن قبل جاری کیا جانا لازم ہے (یعنی جون 2027ء کے اواخر تک)، اور فرمان کی اشاعت کے 54 دن بعد انتخابات منعقد ہوں گے — اس حساب سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ انتخابی تاریخ اتوار، 22 اگست 2027ء بنتی ہے۔ لہٰذا ’’معمول کی صورتحال‘‘ میں اگلے عام انتخابات موسمِ گرما 2027ء میں متوقع ہیں۔

تاہم، قانون بعض شرائط کے تحت قبل از وقت (Snap) عام انتخابات کی اجازت بھی دیتا ہے:

  • وزیرِ اعظم کسی بھی وقت پارلیمنٹ کی تحلیل کی سفارش کر سکتا ہے اور انتخابات کروا سکتا ہے — بشرطیکہ کوئی تحریک عدم اعتماد زیرِ غور نہ ہو، ہنگامی حالت نافذ نہ ہو، اور پچھلی تحلیل کے بعد کم از کم ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہو۔
  • اس کے علاوہ اگر کسی انتخابات کے بعد کوئی وزیرِ اعظم کامیابی سے منتخب نہ ہو سکے (یعنی کوئی معاہدہ نہ ہو)، اور دو ماہ تک نئی حکومت تشکیل نہ پا سکے تو بادشاہ پارلیمنٹ تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر سکتا ہے۔

بظاہر امکانات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ مرکزِ -بائیں بازو (PSOE اور اس کے اتحادی) مقابلے میں موجود رہیں گے، پارتیدو پاپولر (PP) مضبوط رہے گی، اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس (Vox) اپنی پوزیشن بہتر بناتی رہے گی — تاہم کسی ایک جماعت کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

اگرچہ حکومتی ذرائع بار بار یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اگلے عام انتخابات 2027ء میں ہوں گے، تاہم سیاسی غیر یقینی صورتحال — مثلاً آئندہ بجٹ کی منظوری میں ممکنه مشکلات، غیر مستحکم اتحادی حکومت، اور عوامی دباؤ وغٰیرہ حکومت کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ یا تو موسمِ گرما 2026ء میں یا 2027ء کے اوائل میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کردے۔ موجودہ صورتِ حال میں قبل از وقت انتخابات کی پیش گوئی نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی ممکن ہے تاہم اگر اس سال اور اگلے سال پیدرو حکومت وفاقی بجٹ پاس کرانے میں کامیاب ہوسکتی ہے تو پھر یہ بات یقینی ہے کہ انتخابات وقت پر ہی ہونگے۔

مختصراً، اگلے عام انتخابات جب بھی منعقد ہوں:
کوئی ایک جماعت مطلق اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی؛
سیاسی تقسیم مزید گہری ہو چکی ہوگی، اور دائیں و بائیں دونوں بلاکس اندرونی طور پر منقسم رہیں گے (دائیں بازو میں PP اور ووکس، اور بائیں بازو میں PSOE اور سُمار)؛

وزیرِ اعظم پیدرو سانچز پچھلے سات سالوں سے حکومت میں ہیں۔ انہیں اسپین کی پہلی اتحادی حکومت بنانے کا شرف اور تجربہ بھی حاصل ہے۔ محترم پیدرو صاحب پچھلے کئی سالوں سے مختلف نظریات رکھنے والے علاقائی جماعتوں سے ایک کامیاب اتحادی حکومت بنانے اور چلانے کا فقیدا لمثال تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ گمان غالب ہے کہ اگلے انتخابات کے بعد بھی صورتِ حال میں کوئی خاص تبدیلی رونما ہونے والی نہیں اور سوشلسٹ پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاۓ گی تا هم اتحادی جماعتوں سے ڈیل بہت ہی مختلف ہوگی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ” اگلی حکومت بھی غالباً ایک اتحادی حکومت ہوگی، یا پھر ایسی اقلیتی حکومت جو وسیع تر بیرونی حمایت اور سیاسی مفاہمت پر قائم ہو”۔

وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز کے سینے میں ایک ہمدرد دل مکیں ہے۔ فلسطین کے بارے میں عوامی اور حکومتی کا رائے ایک ہونا، ایمگرینٹس کی بابت ایک خصوصی قانون کا اجرا باوجود کہ اپوزیشن جماعتوں نے ا س کی سختی سے مخالفت کی ہے اور حال ہی میں ایران۔ اسرائیل جنگ میں ایک بہادرانہ موقف اختیار کرنا ، یہ تمام احسن اقدامات ایک حوصلہ مند، بہادر اور سیاسی بصیرت رکھنے والا لیڈر ہی کرسکتا ہے۔ ایران ۔اسرائیل جنگ میں اسپین کا موقف دلیرانہ ہے اور اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہی ہوگی۔ میں تمام مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں سے یہ درخواست کروں گا کہ اگلے انتخابات میں اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں اور دردمند دل رکھنے والے لیڈر کو سپورٹ کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے