جونتس نے کانگریس میں حکومت سے، شکیرا کیس میں ٹیکس حکام کے “اختیارات کے ناجائز استعمال” پر وضاحت طلب

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: جونتس پارٹی نے کانگریس اور سینیٹ میں حکومت سے سوالات کا ایک سلسلہ جمع کرایا ہے جس میں شکیرا کے خلاف ٹیکس حکام (ہاسیاندا) کی کارروائی کو “اختیارات کے ناجائز استعمال” قرار دیتے ہوئے جواب طلب کیا گیا ہے۔

آدیئنسیہ ناسیونال (قومی عدالت) نے شکیرا کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2011 میں اسپین کی ٹیکس رہائشی نہیں تھیں، جو کہ ٹیکس ایجنسی کے مؤقف کے خلاف ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں گلوکارہ کو 55 ملین یورو سے زائد رقم واپس کی جائے گی، حالانکہ وہ پہلے ہی 2012 سے 2014 کے درمیان 14.5 ملین یورو اور تقریباً 3 ملین یورو سود کی مد میں ادا کر چکی تھیں۔

جونتس جو کارلس پوجدمون کی جماعت ہے، کا کہنا ہے کہ یہ کیس ریاستی اور کاتالونیا سطح پر ٹیکس حکام کی زیادتیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ پارٹی نے حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل اچھی انتظامیہ، نیک نیتی اور عوامی اعتماد کے اصولوں کے مطابق ہے، جبکہ دس سال تک ایک بڑی مالیاتی تفتیش جاری رکھی گئی مگر ٹیکس رہائش ثابت نہ کی جا سکی۔

پارٹی کی ترجمان مریم نوگیرس نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ آیا ٹیکس انسپکٹرز اور افسران کو جرمانوں یا ٹیکس وصولیوں کی رقم کے ساتھ منسلک بونس یا اضافی مراعات دی جاتی ہیں، اور اگر کسی کیس کو عدالت منسوخ کر دے تو کیا ان مراعات کی واپسی کا کوئی نظام موجود ہے۔

مزید برآں، جونتس نے اس پورے مقدمے پر آنے والی لاگت کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، جن میں واپس کی جانے والی رقم، سود، عدالتی اخراجات اور دیگر قانونی خدمات شامل ہیں، کیونکہ یہ معاملہ تقریباً دس سال تک جاری رہا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے