اسپین میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار تارکینِ وطن نے غیر معمولی ریگولرائزیشن کے لیے درخواست دے دی
Screenshot
حکومت کو اب تک 5 لاکھ 49 ہزار 546 تارکینِ وطن کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جو اپریل میں شروع کیے گئے غیر معمولی ریگولرائزیشن عمل سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، جبکہ ان میں سے اب تک 91 ہزار 905 درخواستوں کو ابتدائی طور پر منظورِ سماعت (admit) کر لیا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ریاستی وکلاء (Abogacía del Estado) نے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران پیش کیے، جہاں میڈرڈ کی علاقائی حکومت، ووکس پارٹی اور چند دائیں بازو کی تنظیموں نے اس عمل کو عارضی طور پر روکنے کی درخواست دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس سے صحت کے نظام پر دباؤ پڑے گا اور ووٹر لسٹ متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم ریاستی وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مہاجرین کے حامی اداروں نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ سماعتیں اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے تھیں کہ آیا اس عمل کو وقتی طور پر روکا جائے یا نہیں، نہ کہ اس کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ دینے کے لیے۔ اس کے باوجود کچھ فریقین نے سیاسی بنیادوں پر سخت تنقید کی، جس پر مخالف وکلاء نے اعتراض کیا کہ یہ غیر مصدقہ معلومات پر مبنی ہے۔
حکومت کا اندازہ تھا کہ تقریباً 5 لاکھ افراد اس عمل سے فائدہ اٹھائیں گے، مگر درخواستوں کی تعداد پہلے ہی اس حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 جون ہے، تاہم حالیہ دنوں میں درخواستوں کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے۔
وزارتِ مہاجرت کے مطابق موصولہ درخواستوں میں کچھ دہراؤ (duplicate) یا ابتدائی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں، جن کی جانچ جاری ہے۔ اب تک 1 لاکھ 46 ہزار 675 فائلوں پر کام کیا جا چکا ہے، جن میں سے 91 ہزار 905 کو باقاعدہ طور پر آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ عمل خودکار نہیں بلکہ ہر درخواست کو مخصوص شرائط پوری کرنے کے بعد ہی منظور کیا جاتا ہے۔ اس ریگولرائزیشن کا اطلاق صرف ان افراد پر ہوتا ہے جو یکم جنوری 2026 سے پہلے اسپین میں موجود تھے اور کم از کم پانچ ماہ کی رہائش ثابت کر سکتے ہیں۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے سرکاری خدمات پر بوجھ بڑھے گا، جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ افراد پہلے ہی اسپین میں رہ رہے ہیں اور بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی محدود ہے۔ اس عمل سے انہیں قانونی حیثیت ملے گی، وہ کام کر سکیں گے، ٹیکس دیں گے اور نظام کا حصہ بن جائیں گے۔
ایک اندازے کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 1 لاکھ 47 ہزار بچوں کو بھی غیر قانونی حیثیت سے نکالا جا سکے گا، جو اس وقت خاص طور پر متاثر ہیں۔