اسپین کی ریگولرائزیشن 2026۔ پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک موقع، ایک سبق

33d04694-4185-4c15-a96e-3f25406df981

تحریر۔۔خالد شہباز چوہان

اسپین کی جانب سے 2026 کی ریگولرائزیشن پالیسی کا اعلان ہوئے اب تقریباً ڈیڑھ ماہ گزر چکا ہے اور مئی 2026 اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ابتدا میں جو صورتحال تھی، وہ کسی ہنگامی کیفیت سے کم نہیں لگتی تھی۔ بارسلونا، میڈرڈ اور دیگر شہروں میں پاکستانی قونصل خانوں کے باہر لمبی قطاریں، بے چینی، دستاویزات کے حصول کی دوڑ اور لوگوں کی پریشانی ہر طرف دکھائی دے رہی تھی۔

شروع میں صرف قونصل خانے ہی نہیں بلکہ بلدیاتی دفاتر، آیونتامینتو اور مختلف میونسپل دفاتر کے باہر بھی لوگوں کی لمبی لائنیں نظر آئیں۔ خاص طور پر وہ افراد جنہیں رہائشی ثبوت یا دیگر سرکاری کاغذات درکار تھے، انہیں کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ بعض جگہوں پر لوگ رات سے لائنوں میں کھڑے دکھائی دیے۔ ابتدائی دنوں میں ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید یہ صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔

بعد ازاں اسپین کی حکومت، مقامی تنظیموں، این جی اوز اور قانونی ماہرین نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ آن لائن اپائنٹمنٹ سسٹم، معلوماتی مراکز اور قانونی رہنمائی کے ذریعے دباؤ کو کافی حد تک کم کیا گیا۔ پاکستانی کمیونٹی کے مقامی سماجی کارکنوں اور قانونی ماہرین نے بھی لوگوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی طرح اسپین میں موجود ہمارے مقامی پاکستانی صحافیوں نے بھی بروقت معلومات عوام تک پہنچانے میں مثبت کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا، کمیونٹی پلیٹ فارمز اور اردو میڈیا کے ذریعے لوگوں کو دستاویزات، اپائنٹمنٹس اور قانونی طریقۂ کار کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جس سے کافی حد تک بے چینی کم ہوئی اور لوگوں کو درست سمت ملی۔

مئی 2026 کے اختتام تک ابتدائی بدنظمی اور ہجوم میں واضح کمی آ چکی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی قونصل خانوں اور سفارت خانے کے محدود عملے نے اس غیر معمولی رش کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا۔ ابتدا میں خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید اتنے بڑے دباؤ کو سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا، مگر وقت کے ساتھ پاکستانی عملے نے اضافی کوششوں اور بہتر انتظام کے ذریعے صورتحال کو مکمل بحران بننے سے بچا لیا۔ اگرچہ شکایات اپنی جگہ موجود رہیں، لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسپین میں موجود پاکستانی سفارتی عملے نے محدود وسائل کے باوجود کافی حد تک حالات بہتر کیے۔

تاہم اگر بیرونِ ملک صورتحال میں کچھ بہتری دکھائی دی تو دوسری طرف پاکستان کے اندر اداروں کی من مانی آج بھی لوگوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس کلیئرنس اور دیگر دستاویزات کے حصول کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے مختلف دفاتر میں جس طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس نے ایک بار پھر ہمارے نظام کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں۔ لوگ بار بار دفاتر کے چکر لگاتے رہے، کہیں سفارش مانگی گئی، کہیں “فوری کام” کے نام پر اضافی پیسے طلب کیے گئے، اور کہیں صرف روایتی سست روی نے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا۔

بعض اداروں اور مڈل مین عناصر نے اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اوورسیز پاکستانی، جو ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں، اپنے ہی ملک کے نظام کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج بھی عام آدمی کو ایک سادہ سرکاری دستاویز کے لیے عزت سے زیادہ سفارش اور پیسے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس پورے معاملے میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرتا دکھائی نہیں دیا۔ ایسے وقت میں جب ہزاروں پاکستانی فوری رہنمائی، قانونی مدد اور ادارہ جاتی تعاون چاہتے تھے، لوگ زیادہ تر سوشل میڈیا گروپس، وکلاء اور کمیونٹی کی غیر رسمی مدد پر انحصار کرتے رہے۔ اگر کمیشن فعال، جدید اور زمینی حقائق سے جڑا ہوا ہوتا تو شاید بہت سے لوگوں کو غیر ضروری پریشانی سے بچایا جا سکتا تھا۔

یہ صورتحال حکومتِ پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والی کمیونٹی سمجھنے کے بجائے انہیں قومی سرمایہ سمجھا جائے۔ صرف تقریروں اور دعوؤں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ:

* اداروں کو جدید بنایا جائے

* ڈیجیٹل سسٹم مضبوط کیے جائیں

* رشوت اور سفارش کلچر ختم کیا جائے

* اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے فوری سہولت کا مستقل نظام بنایا جائے۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی قابلِ تعریف ہے۔

اس مشکل وقت میں پاکستانی کمیونٹی نے اجتماعی شعور کا مظاہرہ کیا۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی، معلومات شیئر کیں، نئے آنے والوں کی رہنمائی کی اور مشکل حالات میں کمیونٹی سپورٹ کا مثبت کردار سامنے آیا۔ یہی وہ رویہ ہے جو کسی بھی قوم کو مضبوط بناتا ہے۔

اب جبکہ ابتدائی رش کافی حد تک کم ہو چکا ہے، پاکستانیوں کو صرف کاغذات لینے کے بجائے اپنے مستقبل کی سنجیدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ ایک بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ اکثر لوگ صرف بارسلونا اور میڈرڈ جیسے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں، حالانکہ وہاں پہلے ہی رہائش، روزگار اور کاروبار کا شدید دباؤ موجود ہے۔

پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ:

* چھوٹے شہروں

* صنعتی علاقوں

* دیہی ٹاؤنز

* اور نئی مارکیٹس

میں مواقع تلاش کریں، جہاں مقابلہ نسبتاً کم اور ترقی کے امکانات زیادہ ہیں۔

یورپ میں کامیابی صرف قانونی حیثیت حاصل کرنے سے نہیں آتی بلکہ کردار، محنت، قانون کی پابندی اور سماجی رویے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص زبان سیکھتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، قانون کا احترام کرتا ہے اور اپنے اخلاق سے اعتماد پیدا کرتا ہے، وہی اصل میں کامیاب ہوتا ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بیرونِ ملک ہر پاکستانی صرف اپنی ذات نہیں بلکہ پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر ہماری کمیونٹی نظم، دیانت، صفائی اور مثبت کردار اپنائے گی تو آنے والی نسلوں کے لیے راستے آسان ہوں گے۔

اسپین کی ریگولرائزیشن پاکستانی کمیونٹی کے لیے صرف ایک قانونی موقع نہیں بلکہ ایک آئینہ بھی ہے  ایسا آئینہ جس میں ہمیں اپنی کمزوریاں بھی نظر آئیں اور اپنی صلاحیتیں بھی۔

کیونکہ آخرکار قوموں کی پہچان صرف پاسپورٹ سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے