حاجی عبدالمجید بھٹی مرحوم دوستی کا دبستان

Screenshot

Screenshot

تحریر۔۔ڈاکٹرقمرفاروق

والدین کے دل میں ایک خواہش جنم لیتی ہے، نہایت سادہ مگر بے حد گہری۔ یہ خواہش وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اور مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ خواہش یہ کہ ان کی اولاد نیک، فرمانبردار اور اپنے خاندان کے لیے باعثِ عزت و وقار بنے۔ اس ایک خواب کی تعبیر کے لیے وہ اپنی زندگی کے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ محنت کی سختیوں کو ہنسی میں اڑا دیتے ہیں، اپنے حصے کی خوشیاں قربان کر دیتے ہیں اور حلال رزق کے ہر لقمے میں دعاؤں کی مٹھاس گھول دیتے ہیں۔

پھر ایک دن معاشرہ ان کی اس محنت کی گواہی دیتا ہے، جب کسی کے لبوں سے بے ساختہ نکلتا ہے:
 “فلاں کا بیٹا یا بیٹی کتنی باحیا اور باکردار ہے، اللہ اسے ایمان والی لمبی زندگی عطا کرے۔”
 یہ جملہ دراصل برسوں کی ریاضت کا صلہ ہوتا ہے، ایک ایسا انعام جو کسی دنیاوی دولت سے بڑھ کر ہوتا ہے۔

لیکن اس کہانی کا سب سے کٹھن اور باوقار منظر وہ ہوتا ہے جب والدین میں سے کوئی ایک اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ جنازے کا وہ لمحہ، جب اولاد خود آگے بڑھ کر اپنے والد کا جنازہ پڑھاتی ہے، محض ایک رسم نہیں بلکہ تربیت کا حاصل، محبت کا نچوڑ اور زندگی بھر کی کمائی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔ اس وقت ہر دل میں ایک ہی احساس جاگتا ہے کہ اس شخص نے اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی جو موت کے بعد بھی اس کے نام کو زندہ رکھے گی۔ یہی وہ انعام ہے جو انسان کو اس دنیا سے جانے کے بعد ملتا ہے۔

دنیا کی سب سے قیمتی کمائی نیک نامی ہے۔ جس نے اسے حاصل کر لیا، اس نے درحقیقت انسانوں کے دل جیت لیے۔ اور انسان کو جیتنا، اس کی محبت حاصل کرنا، شاید سب سے مشکل کام ہے۔ مگر جب یہ دولت نصیب ہو جائے تو پھر کسی اور خزانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ انسان سے محبت دراصل انسانیت سے محبت ہے، اور یہی جذبہ انسان کو اپنے خالق کے قریب لے جاتا ہے۔

پردیس کی زندگی ویسے ہی آزمائشوں سے بھری ہوتی ہے۔ اپنی ضروریات، اپنے خاندان کی کفالت، اور تنہائی کے بوجھ کے درمیان جو لوگ دوسروں کے لیے دل میں محبت رکھتے ہیں، وہ واقعی انمول ہوتے ہیں۔ انہی انمول انسانوں میں ایک نام حاجی عبدالمجید بھٹی مرحوم کا بھی ہے۔ وہ صرف اپنے خاندان کے کفیل ہی نہیں تھے بلکہ دوستی نبھانے کا ہنر بھی جانتے تھے۔ ان کا حلقۂ احباب وسیع تھا، محفلیں ان کے دم سے آباد رہتی تھیں، اور ان کی موجودگی جیسے ہر محفل کی رونق ہوتی تھی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ یوں اچانک سب کو اداس چھوڑ جائیں گے۔

انہوں نے اپنے پیچھے سجاول خان، بلاول خان، دلاور خان اور بابر خان جیسے بیٹے چھوڑے، جو ان کی بہترین تربیت اور نیک کمائی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ بیٹوں کے دل میں باپ کے لیے محبت کا جو جذبہ ہوتا ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں ایک معصومیت بھی ہوتی ہے اور ایک خاموش طاقت بھی۔ بھٹی صاحب کی وفات پر سجاول خان کی کیفیت کچھ ایسی ہی تھی، جیسے کسی بچے سے اس کی سب سے قیمتی چیز چھن جائے۔ ان کی آنکھوں میں درد تھا، دل میں بے قراری، اور چہرے پر وہ خاموش فریاد جو صرف محسوس کی جا سکتی ہے۔

نمازِ جنازہ کے مناظر انتہائی رقت آمیز تھے۔ صرف خاندان ہی نہیں بلکہ دوست احباب بھی غم سے نڈھال تھے۔ وہ دوست جن کے ساتھ ہنسی کے لمحات بانٹے گئے، جن کے بغیر محفل ادھوری رہتی تھی، آج خاموش کھڑے تھے، آنکھوں میں آنسو اور دل میں یادوں کا طوفان لیے۔ پردیس میں اتنی بڑی تعداد کا جنازے میں شریک ہونا اس بات کی گواہی تھا کہ مرحوم نے صرف رشتے نہیں، دل بھی کمائے تھے۔

جمعہ کی نماز کے بعد جب اسد قادری نے اعلان کیا کہ نمازِ جنازہ مرحوم کے بڑے بیٹے سجاول خان پڑھائیں گے، تو ان کی آواز بھیگ گئی۔ یہ اعلان صرف ایک خبر نہ تھا بلکہ ایک جذبے کی عکاسی تھا۔ اس لمحے گراؤنڈ میں موجود ہر شخص کا دل جیسے تھم سا گیا۔ ایک طرف غم کی گہرائی تھی، تو دوسری طرف ایک عجیب سی مسرت بھی کہ ایک بیٹا اپنے والد کے لیے آخری فرض ادا کرنے کے لیے خود آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ منظر ان تمام غلط فہمیوں کو بھی رد کر رہا تھا جو اکثر یورپ کے بارے میں پائی جاتی ہیں کہ یہاں اولاد والدین سے دور ہو جاتی ہے یا نافرمان ہو جاتی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس بھی ہے۔ یہاں بھی ایسی اولاد موجود ہے جو اپنے والدین کی عزت، محبت اور تربیت کو اپنے عمل سے ثابت کرتی ہے۔

آخرکار، انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کی اصل پہچان اس کی اولاد اور اس کے چھوڑے ہوئے اثرات ہوتے ہیں۔ حاجی عبدالمجید بھٹی مرحوم بھی اپنے پیچھے وہی چھوڑ گئے ہیں جو ہر باشعور انسان کی تمنا ہوتی ہے، نیک نامی، محبت اور ایسے لوگ جو انہیں ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے