بارسلونا میں چار نئی بزرگوں کی رہائش گاہیں بنانے اور اسکولوں کی مرمت کے لیے 17.5 ملین یورو خرچ کرنے کا منصوبہ

Screenshot

Screenshot

کاتالونیا کی حکومت (جنرالیتات) اور بارسلونا کی بلدیہ نے شہر میں بزرگ افراد کے لیے رہائشی سہولیات بڑھانے کے تحت آئندہ برسوں میں چار نئی نرسنگ ہومز  بنانے پر غور کیا ہے۔ یہ منصوبہ اس مشترکہ اجلاس میں زیر بحث آیا جس میں کاتالونیا کے صدر سلوادور اییا کی حکومت اور بارسلونا کے میئر جاؤئیمے کولبونی کی انتظامیہ نے شرکت کی۔

اسی اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ آئندہ چار سالوں میں تعلیمی اداروں کی مرمت اور توسیع کے لیے 17.5 ملین یورو مختص کیے جائیں، جبکہ ان اسکولوں کے مستقل عمارات کی تعمیر کی راہ ہموار کی جائے جو کئی برسوں سے عارضی کلاس رومز (باراکونز) میں چل رہے ہیں، جن میں Entença، Gaia، Xirinacs اور 30 Passos شامل ہیں۔

نئی بزرگ رہائش گاہیں بارسلونا کے مختلف علاقوں میں بنائی جائیں گی، جن میں Sant Andreu، Eixample، Marina del Port اور Glòries شامل ہیں۔ تاہم ان کی گنجائش اور تکمیل کے وقت کا تعین ابھی باقی ہے۔ حکام نے تسلیم کیا کہ شہر میں سرکاری سطح پر بزرگوں کے لیے دستیاب سہولیات بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں ناکافی ہیں، اس لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا جو مزید ضرورت کا جائزہ لے گا۔

تعلیم کے شعبے میں، جنرالیتات 10.5 ملین یورو جبکہ بلدیہ 7 ملین یورو فراہم کرے گی تاکہ مختلف اسکولوں کی مرمت اور توسیع کی جا سکے۔ اس کے علاوہ Entença، Gaia اور Xirinacs اسکولوں کی نئی عمارات کی تعمیر کے لیے ایک علیحدہ معاہدہ تیار کیا جا رہا ہے، جس پر مجموعی طور پر تقریباً 41 ملین یورو لاگت آئے گی۔

مزید برآں، بلدیہ نے کاتالان زبان کے کورسز کے لیے اپنی مالی معاونت بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ انتظار کی فہرست کم کی جا سکے، جس میں ہر سہ ماہی تقریباً 2,300 طلبہ شامل ہوتے ہیں۔ اس اقدام سے سالانہ 5,000 نئی نشستیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

سماجی خدمات کے شعبے میں، بلدیہ عملے اور وسائل میں اضافہ کرے گی تاکہ معذوری یا انحصار کے شکار افراد کے لیے ضروری دستاویزات (PIA) کی تیاری میں تاخیر کم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دونوں ادارے اپنے ڈیٹا بیس اور طریقہ کار کو ہم آہنگ کریں گے تاکہ خدمات کی فراہمی تیز ہو سکے۔

اجلاس میں عوامی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی بات ہوئی، جہاں حالیہ چاقو سے حملوں کے واقعات کے بعد سخت موقف اپناتے ہوئے “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر زور دیا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے