فرانسیسی عدالت کی حکومت کو ANEF رہائشی پرمٹ نظام کی خرابیوں دور کرنے کی ہدایت
Screenshot
فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت Conseil d’État نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ آن لائن نظام ANEF میں موجود خرابیوں کو دور کرے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے غیر ملکی شہری رہائشی اجازت نامے (ریزیڈنس پرمٹ) کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ عدالت نے وزارتِ داخلہ کو یہ مسائل حل کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔
عدالت کے مطابق اس نظام کی خرابیاں غیر ملکیوں کے حقوق تک رسائی میں غیر معمولی رکاوٹ ڈال رہی ہیں اور بعض صورتوں میں انہیں ملازمت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم بھی کر سکتی ہیں۔
یہ مقدمہ 2025 میں مختلف تنظیموں نے عدالت میں دائر کیا تھا، جس میں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔ انسانی حقوق کی محافظ Claire Hédon نے اس فیصلے پر کہا کہ وہ اس پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی کریں گی۔
فلاحی تنظیموں نے اس فیصلے کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ تنظیم La Cimade کے نمائندے نے کہا کہ اس سے ریاست کو بہتر اور مؤثر خدمات فراہم کرنے پر مجبور کیا جائے گا، جبکہ France Terre d’Asile نے کہا کہ اس سے متاثرہ افراد اپنی زندگی کو بغیر رکاوٹ جاری رکھ سکیں گے۔
ANEF نظام کے تحت تمام کارروائیاں جیسے رہائشی اجازت نامے کی درخواست، تجدید، یا پتے کی تبدیلی صرف آن لائن ہوتی ہیں، اور دفاتر جا کر یہ کام نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، یہ پلیٹ فارم مسلسل تکنیکی خرابیوں، تاخیر اور انسانی رہنمائی کی کمی کی وجہ سے شدید تنقید کا شکار ہے۔ بہت سے غیر ملکیوں کے لیے یہ نظام ایک “ڈراؤنا خواب” بن چکا ہے۔ اگر انہیں وقت پر اجازت نامہ نہ ملے تو وہ غیر قانونی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں اور اپنی ملازمت، گھر اور سماجی سہولتیں کھو سکتے ہیں۔
متاثرہ افراد میں سے ایک افغان شہری نے کہا کہ وہ مزید انتظار نہیں کر سکتا، جبکہ ایک مراکشی شہری نے بتایا کہ اس نے 2022 میں درخواست دی تھی مگر اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔
عدالت نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ درخواستوں کے زیرِ غور ہونے کے دوران عارضی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں تاکہ لوگوں کی قانونی حیثیت برقرار رہے۔ تاہم اکثر یہ سرٹیفکیٹ وقت پر جاری یا تجدید نہیں کیے جاتے، جس سے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ ایک ہی وقت میں مختلف وجوہات کی بنیاد پر متعدد درخواستیں دینے کی اجازت ہونی چاہیے، کیونکہ موجودہ نظام میں ایسا ممکن نہیں ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف ڈیجیٹل نظام کافی نہیں، بلکہ لوگوں کو براہِ راست ملاقات، فون کال یا کاغذی دستاویزات کے ذریعے بھی سہولت ملنی چاہیے، کیونکہ ٹیکنالوجی انسانی رابطے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔