جرمنی: سرحدی کنٹرول اور سخت مہاجرت پالیسی برقرار رکھنے کا اعلان

Screenshot

Screenshot

برلن/ جرمنی کے وزیر داخلہ Alexander Dobrindt نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں سخت سرحدی نگرانی اور مہاجرت سے متعلق سخت پالیسیاں بدستور جاری رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی مہاجرت اور پناہ کے درخواست گزاروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم ماہرین اس دعوے سے متفق نہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق 2023 کے بعد سے مختلف پالیسیوں کے امتزاج سے غیر قانونی مہاجرت میں تقریباً 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ جرمن فیڈرل پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال میں تقریباً 47 ہزار افراد کو بغیر دستاویزات جرمنی میں داخل ہونے سے روکا گیا، جبکہ 34 ہزار کو سرحد سے واپس بھیجا گیا یا ملک بدر کیا گیا۔ مزید برآں ستمبر 2024 سے تمام سرحدوں پر کنٹرول سخت کرنے کے بعد 81 ہزار سے زائد افراد کو داخلے سے روکا گیا۔

تاہم ان اقدامات پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ پولیس یونین کے رہنما Andreas Roßkopf کے مطابق سرحدوں پر اضافی نفری تعینات کرنے سے ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر حساس مقامات پر پولیس کی کمی پیدا ہو گئی ہے، جس سے جرائم پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔

ادھر گرین پارٹی کے رہنما Marcel Emmerich نے الزام لگایا ہے کہ یہ سرحدی پابندیاں معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، کیونکہ اشیاء کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف یورپی قوانین کے خلاف ہیں بلکہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کو بھی کمزور کرتے ہیں۔

ماہر مہاجرت Gerald Knaus کا موقف ہے کہ پناہ کے درخواست گزاروں میں کمی کا اصل سبب حکومتی پالیسیاں نہیں بلکہ بین الاقوامی حالات ہیں، خصوصاً Bashar al-Assad کی حکومت کے خاتمے کے بعد شامی مہاجرین کی آمد میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق سخت سرحدی اقدامات کا اثر محدود ہے اور یہ پالیسی مستقبل میں الٹا نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

قانونی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ بغیر کسی ہنگامی صورتحال کے پناہ کے متلاشی افراد کو سرحد سے واپس کرنا یورپی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، جس کے باعث عدالتوں میں چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت کو امید ہے کہ جون 2026 میں یورپی یونین کے نئے مہاجرتی معاہدے کے نفاذ کے بعد صورتحال بہتر ہو جائے گی اور اندرونی سرحدی کنٹرول ختم کیے جا سکیں گے۔ تاہم ماہرین اس پر بھی شکوک کا اظہار کر رہے ہیں اور متبادل حل کے طور پر محفوظ تیسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کی تجویز دے رہے ہیں تاکہ مہاجرت کے مسئلے کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے