اسرائیل کے ہاتھوں “پوری انسانیت خطرے میں ہے”اداکولاؤ

Screenshot

Screenshot

بارسلونا کی سابق میئر ادا کولاؤ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضے، نیتن یاہو کی فوج کے ہاتھوں فلسطینی عوام کے قتلِ عام اور لبنان میں حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “پوری انسانیت خطرے میں ہے”۔

وہ میڈرڈ میں قومی عدالت کی عمارت کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں، جہاں وہ اس شکایت کی توثیق کے لیے پیش ہوئیں جو انہوں نے اور غزہ جانے والی انسانی امدادی فلوٹیلا کے دیگر ارکان نے اسرائیلی حکومت کے وزراء اور اعلیٰ حکام کے خلاف دائر کی ہے۔

کولاؤ نے بتایا کہ گزشتہ اکتوبر میں بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انہیں اور دیگر کارکنوں کو “غیر قانونی طور پر گرفتار، بدسلوکی، اغوا اور بغیر حقوق کے جیل میں رکھا گیا”۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اسرائیل نے ان واقعات کی کوئی تحقیقات نہیں کیں، اس لیے انہوں نے ہسپانوی عدالت سے رجوع کیا ہے۔

ان کے ساتھ بارسلونا کے کونسلر جوردی کورونا اور ایک کشتی کے کپتان سمیت دیگر افراد نے بھی شکایت درج کرائی ہے، جس میں اسرائیلی حکام پر انسانیت کے خلاف جرائم، تشدد اور غیر قانونی حراست کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

کولاؤ نے کہا کہ یورپی ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو روکیں، جسے انہوں نے “جرائم کا مرتکب ریاست” قرار دیا، اور الزام لگایا کہ وہ گزشتہ تین برسوں سے نسل کشی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اسی طرزِ عمل کو لبنان سمیت دیگر علاقوں میں بھی دہر رہا ہے۔

دوسری جانب وکیل اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن جائیمے آسنس نے کہا کہ ہسپانوی عدلیہ کا کردار قابلِ فخر ہے کیونکہ وہ متاثرین کی آواز سن رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف فلوٹیلا کے متاثرہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

اس دوران ایک کارکن کی اہلیہ سیلی عیسیٰ نے بتایا کہ ان کے شوہر، ہسپانوی فلسطینی کارکن سیف ابوکسہک، اسرائیلی حراست میں ہیں اور بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے مطابق انہیں شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے ساتھیوں نے ان کی چیخیں سننے کی گواہی دی ہے۔

یہ امدادی قافلہ، جسے “گلوبل سمود فلوٹیلا” کہا جاتا ہے، 44 کشتیوں اور 400 افراد پر مشتمل تھا اور اس کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنا تھا۔ تاہم یکم اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے قافلے کی بڑی کشتیوں کا کنٹرول سنبھال لیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں کئی ہسپانوی شہری بھی شامل تھے۔

کولاؤ نے اپنی رہائی کے بعد بتایا تھا کہ انہیں اور دیگر افراد کو گھنٹوں تک زمین پر جھکائے رکھا گیا اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا، جسے انہوں نے “اغوا اور بدسلوکی” قرار دیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے