ایرانی نوبیل انعام یافتہ کارکن نرگس محمدی شدید علالت کے باعث اسپتال منتقل

Screenshot

Screenshot

ایران کی معروف انسانی حقوق کی کارکن اور نوبیل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو صحت کی اچانک اور تشویشناک خرابی کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

نرگس محمدی کے اہلِ خانہ کی جانب سے قائم فاؤنڈیشن کے مطابق انہیں “شدید اور اچانک بگڑتی ہوئی صحت” کے باعث زنجان کے ایک اسپتال میں ہنگامی طور پر داخل کیا گیا، جہاں انہیں دل کا دورہ بھی پڑا اور وہ دو مرتبہ بے ہوش ہوئیں۔

نارویجن نوبل کمیٹی کے سیکریٹری نے بھی ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ نرگس محمدی کو 2023 میں خواتین کے حقوق اور ایران میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے جدوجہد پر نوبیل امن انعام دیا گیا تھا، تاہم وہ اس وقت جیل میں ہونے کے باعث اوسلو میں منعقدہ تقریب میں شرکت نہ کر سکیں۔

فاؤنڈیشن کے بیان کے مطابق جیل کے ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی، کیونکہ جیل میں ان کا علاج ممکن نہیں تھا۔ تاہم انہیں تہران کے ماہر ڈاکٹروں کے پاس منتقل کرنے کی بار بار سفارشات کے باوجود ایسا نہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نرگس محمدی کو فروری میں مزید سات سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد بار قید رہ چکی ہیں اور تین مرتبہ انجیو پلاسٹی سے گزر چکی ہیں۔

جمعہ کی صبح ان کی طبیعت مزید خراب ہوئی، جب وہ کئی دنوں سے بلند فشارِ خون اور متلی کا شکار تھیں۔ مسلسل قے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئیں، جس پر انہیں فوری طور پر جیل کے طبی یونٹ منتقل کیا گیا اور بعد ازاں اسپتال بھیج دیا گیا۔

اہلِ خانہ نے خبردار کیا ہے کہ ان کی زندگی کو “براہِ راست اور فوری خطرہ” لاحق ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف تمام مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے