یورپی یونین میں ہر چار میں سے ایک پناہ گزین بچہ، بے گھری اور عدم تحفظ کے خطرات میں اضافہ
Screenshot
یورپی یونین میں پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق تازہ اعداد و شمار نے ایک اہم اور تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق ہر چار میں سے تقریباً ایک درخواست گزار بچہ ہے۔ یورپی شماریاتی ادارے Eurostat کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران مجموعی طور پر 1 لاکھ 58 ہزار 400 ایسے افراد نے پہلی بار پناہ کی درخواست دی جو 18 سال سے کم عمر تھے، اور یہ کل درخواستوں کا تقریباً 24 فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان بچوں میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو بغیر کسی سرپرست کے یورپی ممالک میں داخل ہوتے ہیں یا داخلے کے بعد اکیلے رہ جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کو “غیر ہمراہ کم عمر” قرار دیا جاتا ہے، اور یہ طبقہ سب سے زیادہ خطرات کا شکار ہوتا ہے۔ آسٹریا، جرمنی اور فن لینڈ میں کم عمر پناہ گزینوں کا تناسب سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سلووینیا، لٹویا اور بلغاریہ میں غیر ہمراہ بچوں کی شرح نمایاں رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو سب سے بڑا مسئلہ محفوظ رہائش کی کمی کا سامنا ہے۔ FEANTSA کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یورپ میں پناہ گزین بچوں کے لیے قائم کئی مراکز گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں یا وہاں بنیادی سہولیات ناکافی ہیں، جس کی وجہ سے بچے غیر محفوظ حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں یا وہاں سے نکل کر سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ بچے 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں فوری طور پر پناہ گاہوں، سماجی خدمات اور قانونی تحفظ سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ مناسب رہنمائی اور سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث ان میں سے بہت سے نوجوان جلد ہی بے گھر ہو جاتے ہیں۔
طویل اور پیچیدہ امیگریشن عمل بھی صورتحال کو مزید خراب کرتا ہے۔ کئی بچے برسوں تک غیر یقینی کیفیت میں رہتے ہیں، اور بعض صورتوں میں ان کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد وہ مکمل طور پر نظام سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بدسلوکی، استحصال اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل بھی ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 2021 سے 2023 کے درمیان یورپ میں 51 ہزار سے زائد مہاجر بچے لاپتہ بھی ہو چکے ہیں، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، جس میں محفوظ رہائش، ذہنی صحت کی سہولیات اور طویل مدتی سماجی انضمام کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ان بچوں کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جا سکے۔