اسرائیل دو فلوٹیلا کارکنوں کو تفتیش کے لیے اپنے ملک لے جائے گا، باقی کو کریٹ جزیرے پر رہا کر دیا گیا
Screenshot
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ آویلا اور ابو کشیک نامی دو کارکنوں کو تفتیش کے لیے اپنے ملک منتقل کرے گا، جبکہ باقی تقریباً 175 کارکنوں کو یونان کے جزیرے کریٹ پر رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ کارکن گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے، جو غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق، ابو کشیک پر ایک “دہشت گرد تنظیم سے تعلق” کا شبہ ہے، جبکہ آویلا پر “غیر قانونی سرگرمیوں” میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
دیگر تمام کارکنوں کو، جنہیں اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی سمندری حدود میں روک کر حراست میں لیا تھا، بعد میں کریٹ میں اتار کر رہا کر دیا گیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدن سائر نے کہا کہ جو لوگ واقعی غزہ کو انسانی امداد پہنچانا چاہتے ہیں، وہ “امن بورڈ” کے ذریعے یہ کام کریں، اور اسرائیل غزہ کی “قانونی بحری ناکہ بندی” کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب فلوٹیلا تنظیم نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دونوں زیر حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی حکومتوں سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔
یونان نے بھی، انسانی بنیادوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت، اسرائیل سے اپنے جہاز علاقے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور پیشکش کی تھی کہ وہ کارکنوں کو اپنے ملک میں محفوظ طریقے سے اتار کر ان کی واپسی یقینی بنائے گا۔
ادھر ہسپانوی وزیر اعظم پیدروسانچز نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدے فوری طور پر معطل کرے۔