پی ایس او ای کا “قومی ترجیح” پالیسی روکنے کے لیے ہر سطح پر ادارہ جاتی اقدام کا اعلان

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: ہسپانوی سوشلسٹ پارٹی (PSOE) نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ پی پی (PP) اور ووکس (Vox) کی جانب سے پیش کیے گئے “قومی ترجیح” کے تصور کو روکنے کے لیے ہر سطح پر ادارہ جاتی اقدامات کرے گی۔

حکومتی صدر پیدروسانچز کی قیادت میں پارٹی نے کہا ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں، علاقائی پارلیمانوں، قومی پارلیمنٹ (Cortes Generales)، ہسپانوی بلدیاتی فیڈریشن اور یورپی پارلیمنٹ میں قرارداد یا قانون سازی کی صورت میں اقدامات پیش کرے گی تاکہ شہریوں کے درمیان برابری کے اصول کا دفاع کیا جا سکے، جسے ان کے مطابق پی پی اور ووکس نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

پی ایس او ای کے مطابق فیخو کی جماعت کی جانب سے ایکستریمادورا اور آراگون میں دائیں بازو کی جماعت کے ساتھ کیا گیا معاہدہ “غیر انسانی اور غیر قانونی” ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ معاشرے کو تقسیم کر کے شہریوں کو پہلے اور دوسرے درجے میں بانٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 14 میں دی گئی مساوات کی شق کی خلاف ورزی بھی ہے، اس لیے اسے غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔

پی ایس او ای نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ “قومی ترجیح” کی پالیسی عوامی خدمات کو کمزور کرے گی اور ادارہ جاتی نظام کو نقصان پہنچائے گی، جو کہ انتہا پسند جماعتوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔

پارٹی نے واضح کیا کہ وہ ایک ایسے اسپین کی حمایت کرتی ہے جو متحد ہو، نہ کہ تقسیم شدہ۔ بیان میں کہا گیا کہ سوشلسٹ پارٹی کی ترجیحات عوامی مفادات ہیں، جن میں امن، روزگار، عوامی صحت کا نظام، تعلیم کے ذریعے مساوات، پنشن میں اضافہ، محتاج افراد کی دیکھ بھال اور سستی رہائش شامل ہیں۔

آخر میں پارٹی نے کہا کہ وہ اس پالیسی کو روکنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر متحرک ہوگی اور ماضی کی سماجی و علاقائی تقسیم کی طرف واپس نہیں جانا چاہتی، بلکہ اس کا ماڈل سماجی انصاف اور انسانی وقار پر مبنی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے