بارسلونا میں 24 گھنٹوں کے دوران چار چاقو زنی کے واقعات، دو افراد ہلاک
Screenshot
بارسلونا اور اس کے نواحی علاقوں میں محض 24 گھنٹوں کے اندر چار مختلف چاقو زنی کے واقعات پیش آئے، جن میں دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان پے در پے واقعات نے شہر میں سکیورٹی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
سب سے افسوسناک واقعہ اسپلوگس دی یوبریگات میں پیش آیا، جہاں ہفتے کی صبح ایک شخص نے ایک خاتون کو دن دہاڑے متعدد وار کر کے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ فائنستریلس کے پرامن رہائشی علاقے میں پیش آیا، جو ہسپتال سانت خوان دے دیو کے قریب واقع ہے۔ اطلاع ملنے پر طبی امدادی ٹیم موقع پر پہنچی، مگر خاتون کو بچایا نہ جا سکا۔ پولیس نے کچھ ہی دیر بعد مشتبہ شخص کو بارسلونا سے گرفتار کر لیا، جس کے پاس ایک بڑا چاقو موجود تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر “اللہ” کا نام بھی پکارا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا بھی ہو تو ضروری نہیں کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہو۔ حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تمام امکانات کھلے رکھے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
اسی دوران ایل اوہسپیتالیت میں جمعہ کی رات دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس میں دو افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ ایک ملزم بعد میں خود ہسپتال پہنچا جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔
اتوار کی صبح ایک اور مہلک واقعہ بارسلونا کے علاقے سیوتات ویا میں پیش آیا، جہاں ایک کم عمر لڑکے نے مبینہ طور پر ایک شخص کو چاقو مار کر قتل کر دیا۔ زخمی شخص کو ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس نے ملزم کو بعد میں گرفتار کر لیا۔
اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ شہر کے فورم کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک کم عمر لڑکا چاقو کے وار سے زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
واقعے کے بعد اسپلوگس دی یوبریگات میں شہریوں نے مقتولہ کے لیے شمعیں روشن کیں اور پھول چڑھائے، جبکہ مقامی انتظامیہ نے دو روزہ سوگ کا اعلان کیا اور عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
ان واقعات نے سیاسی ردعمل بھی پیدا کیا ہے، جہاں مختلف جماعتوں نے سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔