اسپین میں تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن پر عوام منقسم: 38 فیصد حمایت، 33 فیصد مخالفت
Screenshot
اسپین میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے حکومتی منصوبے نے معاشرے کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 37.6 فیصد شہری اس اقدام کے حق میں ہیں، جبکہ 33 فیصد اس کی مخالفت کرتے ہیں اور 21.5 فیصد اسے درمیانی درجے کا اقدام قرار دیتے ہیں۔ خاص طور پر دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹرز اس پالیسی کے زیادہ ناقد ہیں۔
یہ سروے 40dB نے El País اور Cadena SER کے لیے کیا، جس میں 2,000 افراد کی رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق 60 فیصد ہسپانوی شہریوں کا خیال ہے کہ ملک میں تارکینِ وطن کی تعداد پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔
حکومت کے اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد اس ریگولرائزیشن سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور صرف پہلے ہفتے میں 130,000 درخواستیں جمع ہو چکی ہیں۔ تاہم 51 فیصد افراد اس تعداد کو “بہت زیادہ” قرار دیتے ہیں۔
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس پالیسی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں منفی رائے رکھتی ہے۔ تقریباً 50 فیصد کا خیال ہے کہ اس سے رہائش کے مسائل بڑھیں گے، 48 فیصد کے مطابق صحت اور تعلیم جیسے عوامی خدمات پر دباؤ بڑھے گا، جبکہ 43 فیصد اسے سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
اسی طرح 59 فیصد شہریوں کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے مزید تارکینِ وطن کی آمد میں اضافہ ہوگا، جسے سیاسی طور پر “پل ایفیکٹ” کہا جاتا ہے۔ 55 فیصد کے نزدیک یہ صحت کے نظام پر بوجھ ڈالے گا اور 52 فیصد سمجھتے ہیں کہ اس سے مقامی افراد کے لیے گھر حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
تاہم کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ تقریباً 60 فیصد افراد کا خیال ہے کہ اس سے تارکینِ وطن کی زندگی بہتر ہوگی، 53 فیصد کے مطابق یہ لیبر مارکیٹ میں کمی کو پورا کرے گا، جبکہ 45 فیصد سمجھتے ہیں کہ اس سے سوشل سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا۔
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ عوام میں اس پالیسی کے بارے میں خاصی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 40 فیصد افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اس عمل کے تحت خودکار طور پر شہریت دی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور درخواست دہندگان کو مختلف شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔
عوامی رائے میں ایک اور اہم نکتہ “قومی ترجیح” کا ہے۔ 44 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ سرکاری امداد میں ہسپانوی شہریوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ 32 فیصد سب کے ساتھ برابر سلوک کے حق میں ہیں۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ اسپین میں امیگریشن ایک حساس اور متنازع مسئلہ بن چکا ہے، جہاں عوامی رائے، سیاسی وابستگی اور معلومات کی کمی اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔