اسپین خاص طور پر کاتالونیا میں بجلی چوری کے کیسز میں اضافہ 

910e5683-6b3b-4674-a3b1-468edcc089c1

اسپین/ بجلی کمپنی اندیسا نے ایک سال کے دوران بارسلونا میں 5,487 بجلی چوری کے کیسز پکڑے، یعنی اوسطاً روزانہ 15 کیسز۔ پورے کاتالونیا میں 2025 کے دوران بجلی فراڈ کے 24,347 کیسز سامنے آئے، جو 2024 کے مقابلے میں 6.9 فیصد زیادہ ہیں۔
کمپنی کے مطابق 2025 میں بارسلونا میں 5,487 کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 19.4 فیصد زیادہ ہیں۔ اس فراڈ کے نتیجے میں تقریباً 81,341,672 کلو واٹ گھنٹے بجلی غیر قانونی طور پر استعمال کی گئی، جو 23,200 سے زائد گھروں کی سالانہ بجلی کے برابر ہے۔
یہ رجحان گزشتہ برسوں سے بڑھ رہا ہے، مثلاً 2022 میں 4,025 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
پورے کاتالونیا میں 2025 کے دوران 24,347 کیسز سامنے آئے، جبکہ اسپین بھر میں یہ تعداد 72,700 تک پہنچ گئی، یعنی روزانہ تقریباً 200 کیسز یا ہر گھنٹے میں 8 کیسز۔

اعداد و شمار کے مطابق 52 فیصد فراڈ صنعتوں، کاروباروں، بڑے صارفین اور چرس (ماریجوانا) کی کاشت سے منسلک ہے۔صرف 5 فیصد فراڈ گھریلو چھوٹے صارفین (3 کلو واٹ سے کم) سے متعلق ہے۔

تقریباً 60 فیصد کیسز میں لوگ بغیر کنٹریکٹ کے براہ راست بجلی نیٹ ورک سے جڑ جاتے ہیں۔باقی 40 فیصد کیسز ان صارفین کے ہیں جن کے پاس کنٹریکٹ ہوتا ہے مگر وہ سسٹم میں ردوبدل کرتے ہیں۔
بارسلونا میں 10 کیسز خاص طور پر ماریجوانا کی کاشت سے جڑے پائے گئے۔ اس قسم کی کاشت میں بجلی کی طلب بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ کنٹریکٹ شدہ بجلی سے پانچ گنا زیادہ استعمال کر سکتی ہے، جس سے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے اور آگ لگنے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق ایسے کیسز دن بدن زیادہ پیچیدہ اور جدید ہو رہے ہیں۔
اندیسا نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کے نظام میں چھیڑ چھاڑ نہ صرف کرنے والے افراد بلکہ اردگرد کے لوگوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ زیادہ فراڈ والے علاقوں میں بجلی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور نظام کا معیار بھی خراب ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے