“ہم کوئی میوزیم نہیں”بارسلونا کی بوکریا مارکیٹ کے دکانداروں کا داخلہ فیس کی تجویز مسترد

Screenshot

Screenshot

بوکریا مارکیٹ بارسلونا کی سب سے مشہور اور مصروف مارکیٹوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں روزانہ تقریباً 80 ہزار افراد آتے ہیں، جن میں بڑی تعداد سیاحوں کی ہوتی ہے۔ اس وقت خریداروں میں صرف 15 فیصد مقامی شہری ہیں جبکہ 85 فیصد غیر ملکی سیاح ہیں۔

حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور آئیں، جن میں ایک تجویز مارکیٹ میں داخلے کے لیے فیس عائد کرنے کی بھی تھی۔ تاہم دکانداروں نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ تاجروں کی ایسوسی ایشن کے صدر جوردی ماس کے مطابق، “ہم کوئی میوزیم نہیں ہیں”، اس لیے داخلہ سب کے لیے مفت ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس بات سے بھی اختلاف کیا کہ صرف سیاحوں سے فیس لی جائے، کیونکہ ان کے بقول سیاح صرف تصویریں نہیں لیتے بلکہ خریداری بھی کرتے ہیں، جو مارکیٹ کی معیشت کے لیے اہم ہے۔

دکانداروں کا اصل ہدف یہ ہے کہ مقامی خریداروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں خریداروں کا تناسب 50 فیصد مقامی اور 50 فیصد سیاحوں پر مشتمل ہو۔ اس مقصد کے لیے مارکیٹ کی پیشکش کو مزید بہتر بنانے اور اسے ایک مکمل تجربہ بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ لوگ یہاں زیادہ وقت گزاریں اور خریداری کے ساتھ ساتھ کھانے پینے سے بھی لطف اندوز ہوں۔

اس کے علاوہ مارکیٹ کو قریبی علاقے راوال کے ساتھ دوبارہ جوڑنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے لیے پلازا دے لا گاردونیا کے داخلی راستے کو بحال کیا جائے گا۔

دوسری جانب، مارکیٹ میں جاری مرمتی کاموں کے دوران دکانوں کو عارضی طور پر گاردونیا اسکوائر میں منتقل کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، تاہم دکانداروں نے اس حوالے سے تفصیلات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جہاں تک اتوار کے دن مارکیٹ کھولنے کا تعلق ہے، اس پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس سے کاروبار کو فائدہ ہوگا، لیکن فی الحال زیادہ تر دکاندار اس کے خلاف ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے