بادشاہ فلیپے ششم کا اعتراف: بارسلونا سائنس اور ثقافت میں اسپین اور یورپ کی نمایاں مثال
ہسپانوی بادشاہ فلیپے ششم نے بارسلونا کو اسپین اور یورپ میں سائنس، ثقافت اور صنعت کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز Palau de Pedralbes میں منعقدہ نیشنل ریسرچ ایوارڈز 2025 کی تقریب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کو اعزازات سے نوازا۔
تقریب میں ممتاز نیورولوجسٹ جوزپ دالماؤ، کیمیا دان کارمے روویرا، محقق اگناسیو دے لا تورے، ماہر ماحولیات آنا ماریا تراویسےت اور نینو ٹیکنالوجی کی ماہر سولیداد مارٹین سمیت بیس سائنسدانوں کو ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز دیے گئے۔ ان میں اکثریت خواتین کی تھی۔ بادشاہ نے ان سائنسدانوں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ علم کو شکل دینے اور بہتر معاشرے کے لیے کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سائنسدان بظاہر کم نظر آنے والی مگر انتہائی مؤثر کمیونٹی ہیں، اور حال ہی میں انہوں نے کائیشا ریسرچ انسٹیٹوٹ کے افتتاح میں شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے تحقیق کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
تقریب میں کاتالونیا کے صدر سلوادور اییا بارسلونا کے میئر جاؤئمے کولبونی، اور سائنس کی وزیر دیآنا مورانت بھی موجود تھیں۔
اپنے خطاب میں سلوادور اییا نے کاتالونیا کو سائنس دانوں کا خطہ قرار دیتے ہوئے تحقیق کے بجٹ میں کمی پر تشویش ظاہر کی اور سائنس کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب وزیر دیآنا مورانت نے ایوارڈ یافتگان کی اجتماعی ذہانت اور امید کو سراہا اور کہا کہ مایوسی ان لوگوں کا بہانہ ہے جو کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے سائنسی اداروں میں خواتین، نوجوانوں اور تارکین وطن کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بادشاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سائنس صرف علم ہی نہیں بلکہ ایک طرز فکر ہے، جو تجسس، دیانت اور آزادی پر مبنی ہوتی ہے، اور جس میں ہر جواب نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ایوارڈز کے مختلف شعبوں میں نمایاں سائنسدانوں کو اعزازات دیے گئے، جن میں حیاتیات، طب، انجینئرنگ، طبیعیات، کیمیا، ریاضی اور سماجی علوم شامل ہیں۔ ساتھ ہی نوجوان محققین کو بھی ان کی ابتدائی کامیابیوں پر سراہا گیا۔