اسپین میں تارکینِ وطن کا ووٹ: رجحان بائیں بازو کی طرف، مگر دائیں بازو کو بھی فائدہ
Screenshot
اسپین میں تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ووٹ کو لے کر سیاسی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، خاص طور پر حکومتِ پیدروسانچز کی جانب سے مجوزہ ریگولرائزیشن (قانونی حیثیت دینے) کے بعد۔ تاہم اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ یہ عمل فوری طور پر کسی نئے ووٹر کا اضافہ نہیں کرے گا، کیونکہ شہریت حاصل کیے بغیر ووٹ کا حق ممکن نہیں، اور اس کے لیے عموماً دس سال درکار ہوتے ہیں۔
سرکاری اندازوں کے مطابق اس وقت اسپین میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 90 لاکھ ہے، مگر ان میں سے صرف ڈھائی ملین (25 لاکھ) افراد ہی ہسپانوی شہریت حاصل کر کے ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ یہ کل ووٹرز کا تقریباً 7 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے باوجود بڑے شہروں جیسے میڈرڈ اور بارسلونا میں ان کا ووٹ بعض نشستوں کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ووٹنگ کے رجحانات پر نظر ڈالیں تو مجموعی طور پر تارکینِ وطن کا جھکاؤ بائیں بازو کی طرف دیکھا گیا ہے، خاص طور پر افریقی نژاد ووٹرز واضح طور پر PSOE کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لاطینی امریکی ووٹرز میں تقسیم پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ان میں سے کئی بائیں بازو کو ووٹ دیتے ہیں، مگر کیوبا اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف مائل ہے۔
خاص طور پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دائیں بازو کی جماعت Vox کو بھی تارکینِ وطن کے کچھ حلقوں میں حمایت حاصل ہو رہی ہے، جبکہ روایتی دائیں بازو کی جماعت پاپولر پارٹی کے ساتھ اس کا مقابلہ جاری ہے۔ بعض سروے کے مطابق وینزویلا اور کیوبا سے تعلق رکھنے والے ووٹرز میں ووکس اور پی پی کے درمیان سخت مقابلہ پایا جاتا ہے۔
کاتالونیا میں صورتحال کچھ مختلف ہے، جہاں PSC کو تارکینِ وطن میں نسبتاً زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ اس کے باوجود ووکس یہاں بھی پی پی سے آگے نظر آتی ہے، خاص طور پر غیر ملکی نژاد ووٹرز میں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ تارکینِ وطن کی ووٹنگ شرح مقامی آبادی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جو عموماً 10 سے 20 فیصد تک کم رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ان کی تعداد قابلِ ذکر ہے، مگر عملی طور پر ان کا اثر اس حد تک نہیں جتنا تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں جب موجودہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو شہریت ملے گی، تب بھی ان کا ووٹ مقامی آبادی کے رجحانات سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا، کیونکہ دوسری نسل کے ووٹرز عموماً مقامی سیاسی رجحانات کو ہی اپناتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تارکینِ وطن کا ووٹ کسی ایک جماعت کے لیے مکمل طور پر فیصلہ کن نہیں، بلکہ یہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر اسپین کی سیاست میں ایک متوازن کردار ادا کر رہا ہے۔