اوسکر لوپز نے اسپین کو نیٹو کا “قابلِ اعتماد شراکت دار” اور یورپی اقدار کا محافظ قرار دے دیا
Screenshot
میڈرڈ/ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور پبلک فنکشن کے وزیر اور PSOE-M کے رہنما اوسکر لوپز نے ہفتہ کے روز اسپین کے عالمی کردار کے حوالے سے “اطمینان” کا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نیٹو کا ایک “قابلِ اعتماد شراکت دار” ہے اور رہے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان سے جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسپین اور اٹلی جیسے ممالک پر جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کے بارے میں سوال کیا گیا۔
سوشلسٹ رہنما نے واضح کیا کہ نیٹو اتحاد کے اندر قابلِ اعتماد ہونا اس بات سے مختلف ہے کہ کسی “غیر منصفانہ جنگ” کی حمایت کی جائے، جو صرف امریکہ کی قیادت میں ہو، نیٹو کی حمایت کے بغیر ہو اور جسے یورپی یونین مسترد کر چکی ہو۔
اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ پیدروسانچز کی حکومت کا یہ فیصلہ کہ اسپین کے فوجی اڈوں کو یکطرفہ حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، “مکمل خودمختاری کا اظہار” تھا اور اس سے بین الاقوامی تنظیم کے ساتھ وابستگی کم نہیں ہوتی۔
انہوں نے یورپی اقدار کے دفاع میں اسپین کے کردار کو بھی سراہا اور قبرص میں یورپی یونین کے وزراء کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، قبرصی حکام نے ایک سابقہ حملے کے دوران دفاع کے لیے اسپین کی جانب سے جنگی جہاز بھیجنے پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے آخر میں کہا: “ہمیں اسپین کی حکومت کے اقدامات پر فخر ہے اور پیدروسانچز کی جانب سے امن، ہماری اقدار اور یورپ کے دفاع پر بھی فخر ہے۔”