امید،ہمت اور حوصلے کی مجسم تصویر۔چوہدری محمد زاہد سہنہ مرحوم
تحریر۔۔۔ڈاکٹرقمرفاروق بارسلونا اسپین
کوئی اپنوں سے بڑھ کر بھی اپنا ہوجائے ،میرے ساتھ تو ایسے ہی ہوا،پہلی ملاقات میں ہی ایسے لگا جیسے ہم برسوں سے شناسا ہیں ،ملاقاتیں بڑھی تو مزید احساس ہوا یہ تو اپنوں سے بھی بڑھ کر ہیں جنہیں احساس ہے کہ میں کیسا ہوں،گھنٹوں گفتگو کریں نا آپ سنتے اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں اور ناہی گفتگو کرتے الفاظ کی کمی اور خیالات میں الجھن محسوس ہوئی ہوتی ہے

پہلی ملاقات ایک تصیحح سے ہوئی فرمانے لگے آپ نے کل ایک خبر لگائی جس میں میرا نام درست نہیں ہے،میں نے کہا کہ آپ درستگی فرما دیں تو فرمانے لگے کہ “چوہدری محمد زاہد آف سہنہ” میں نے چونکہ چوہدری زاہد محمود باقی بھائیوں کے ناموں کی مناسبت سے لکھ دیا تھا لہذا اس دن کے بعدان کے نام کو ایسے رٹا لگایا کہ پھر یہ نوبت نہ آئے۔عجیب اتفاق دیکھیں جب میری ہسپتال میں ان کی وفات سے صرف دو دن قبل ملاقات ہوئے تو نیند میں تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ان کے چھوٹے بھائی جو گزشتہ کئی ماہ سے ان کی خدمت میں معمور تھے چوہدری ناصر محمود آف سہنہ سے ہے گفتگوکرنا شروع کردی بھائی کی طبعیت کے بارے میں پوچھا ڈاکٹروں نے کیا کہا؟ کب تک باقاعدہ علاج شروع ہوجائے گا؟میڈیکل ٹیسٹ کیا کہتے ہیں ؟ اس پر بات چیت ہو رہی تھی کہ بھائی صاحب نیند سے بیدار ہوئے تو مجھے کہا کہ ادھر آؤ میں ان کے قریب پہنچا تو میرا ہاتھ ہاتھوں میں لے کر رو پڑے میں نے دلاسہ دیا اور کہا کہ بھائی جان بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ہم دوبارہ اپنے دوستوں کے ساتھ بڑی پارٹی کریں گے اور صحت کا جشن منائیں گے،میری طرف دیکھا اور کہا ان شاء اللہ

پھر ناصر سے کہا کہ ڈاکٹر کے ساتھ میری فوٹو بناؤ ناصر نے میری فوٹو بنائی اور پھر ایک سیلفی بنائی۔کہنے لگے کہ میرا نام “چوہدری محمد زاہد آف سہنہ ہے”ایسے ہی لکھنا غلط نہ لکھ دینا میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی جان صرف ایک بار غلطی ہوئی اس کے بعد دوبارہ کبھی سوچا بھی نہیں

بھائی مجلسی آدمی تھے،جب بھی بارسلونا آجاتے پھر ڈیرہ سہنہ پر رونقیں لگ جاتی ایسے ایسے دوست وہاں آتے جن کو پہلے نہیں دیکھا ہوتا تھا،اور پھر ان کی بدولت ان کے دوست ہمارے بھی دوست بن جاتے اور اس وجہ سے ہماری دوستی کی فہرست بھی بڑھ گئی،
بھائی جان ہر سال ایک گرینڈ پارٹی کا اہتمام کرتے جس میں دوستوں کے علاوہ جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے ان کو بھی نا صرف بلاتے بلکہ برابر کا احترام دیتے،ان کے ساتھ کام کرنے والوں میں پاکستانیوں کے علاوہ بھارتی پنجاب،افریقہ،اسپین اور مراکشی شامل ہیں سب کے لئے ایک جیسا سوچتے اور شاید یہی وجہ تھی کہ سب لوگ اپنے پرائے بڑی عزت واحترام کرتے۔

بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو مجلسی ہوں اور سب کو جوڑے رکھیں بھائی کی مجلس بھی بڑی،دسترخوان بھی بڑا اور دوست احباب کی تعداد بھی بہت زیادہ اس کا کئی بار تجربہ ہوا کوئی مہمان آجائے کو کھیل کا میلہ ہو تو دوستوں کی محبت دیکھنے لائق ہوتی اور پھر ان کے لئے دستر خوان بچھ جاتا چاہے اپنے ڈیرہ پر ہو یاکسی ریسٹورنٹ پر بہت چاہت سے خدمت کرتے
میں اکثر کہتا ہوں جن خاندانوں میں اتفاق ہو وہ خاندان زمانے میں معزز کہلاتے ہیں لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور اللہ سبحانہ تعالی ایسے خاندان کو عزت کی سربلندی اور مال ومتاع سے بھی نوازتا ہے۔میں پاکستان میں اور اسپین میں چند ایک خاندانوں کو جانتا ہوں جن اتفاق واتحاد مثالی ہے اور وہ عزت واکرام کے عہدہ پر بھی ہیں ان میں ایک سہنہ برادران بھی ہیں بلکہ باقی خاندانوں سے نمایاں بھی ہیں ۔ان بھائیوں میں اتفاق واتحاد تو نمایاں ہے ہی لیکن جو اپنے بڑے بھائی کا ادب واحترام دیکھا وہ بھی کمال کا ہے،بڑے بھائی کو باپ کی طرح کا ادب واحترام اس خاندان میں دیکھا۔محمد زاہد چونکہ سب سے بڑے تھے ان کے سامنے سب بھائیوں کو ہاتھ باندھے کھڑے اور ہاں میں ہاں ملاتے دیکھا۔کبھی کسی بھائی کو آگے سے کوئی سوال جواب کرتے نہیں دیکھا۔اور یہ ادب ہی ہے جو سب بھائیوں کو بڑا بنا گیا ہے۔

آج اگر سہنہ برادران کسی دنیاوی مقام پر ہیں معاشرے میں عزت واکرام ہے تو یہ بھائی زاہد کی محنت،لوگوں سے محبت اور سب سے بڑھ کر خاندان کو خاندان بنائے رکھا ناصرف بھائیوں میں محبت کی امنگ پیدا کی بلکہ بہنوں،ان کی اولاد ،بھائیوں اور ان کی اولاد کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے رکھا اور خود بڑا بن کر دکھایا۔اپنی اولاد کی طرح سب کو برابر دیکھا اور کامیاب کرنے کے لئے ہرممکن تگ ودو کی اگر کوئی ایک بار دو بار ناکام بھی ہوا تو اسے تیسری بار پھر پاؤں پر کھڑا کرنے کی ہمت دی اور بالاخر آج سب بھائی ،بہنوں کی اولاد بھی کامیاب ہے۔
بھائی کے پاس اگر کوئی باہر سے بھی آیا اور اس نے کوئی سوال کردیا تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کی،جس طرح سخت طبعیت کے تھے اسی طرح رقیق قلب بھی پایا ۔
بہت سارے واقعات ہیں جو لکھنا چاہتا ہوں لیکن ایک دو باتیں ضرور کروں گا جن سے ان کے حوصلے ہمت اور جذبے کا پتہ چلتا ہے۔ایک بار مذاق میں میں نے بابا جی کہہ دیا۔بس پھر کیا چلتے رک گئے اور پوری توجہ کے ساتھ مجھے دیکھا اور کہا ڈاکٹر میں بابا جی نہیں ہوں،ابھی تو میں جوانی کے دنوں سے گزر رہا ہوں اور آئندہ کبھی بابا جی نہیں کہنا۔ابھی میں بابا نہیں ہوا کہ چار پائی پر بیٹھ جاؤں ،اس دن کے بعد میں نے بھائی صاحب ہی کہا اور لفظ باباجی زبان پر نہیں آنے دیا۔جس جذبے کے ساتھ انہوں نے جوانی کا ذکر کیا اس سے لگتا ہے کہ بھائی صاحب اپنے خاندان کو ہمت اور حوصلہ میں رکھنے کے لئے خود کو جوان رکھتے تھے۔
جب بارسلونا آئے اور صحت ٹھیک نہیں تھی اور ہسپتال داخل ہوئے دو دن بعد ہی میں ہسپتال گیا ہشاش بشاش تھے۔پہلے کی طرح تو نہیں لیکن اس سے کم بھی نہیں جوش سے گفتگو کی امید ظاہر ہوئی کہ کوئی نہیں مشکل وقت ہے ٹل جائے گا اور بھائی صاحب جلد گھر آجائیں گے،کیونکہ ان کا حوصلہ اور ہمت بتا رہی تھی کہ بیماری کا مقابلہ کیا جائے گا۔داڑھی کچھ بڑھی ہوئی تھی میں نے کہا کہ بھائی صاحب اب داڑھی رکھ لیں میرا یہ کہنا تھا کہ میری طرف بڑے غور سے دیکھا اور کہا کہ دعا کرنا میں نے کہا کہ اس جمعہ کو میں آپ کے لئے خصوصی دعا کروں گا کہ اللہ سبحانہ تعالی ہمارے بھائی کو صحت اور داڑھی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
بھائی صاحب کی وفات سے دو دن قبل میری ہسپتال میں ملاقات ہوئی جس کا تذکرہ اوپر کیا ہے ابھی دوبارہ جانے کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ بھائی ساجد کا فون آیا تو سلام دعا کے بعد انہوں نے
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
پڑھا تو میں نے حیرانی کے عالم میں پوچھا بھائی کیا ہوا تو ساجد بھائی نے کہا کہ بھائی زاہد ہمیں چھوڑ گئے ہیں
کوئی بھلا ایسے بھی کرتا ہے کہ امید دلا کر خود چلا جائے۔