ڈنمارک میں پاکستانی کمیونٹی کی سیاسی ناکامی: اتحاد کی کمی یا باہمی تقسیم؟

IMG_4920

تحریر۔راجہ غفور افضل

ڈنمارک میں پاکستانی کمیونٹی کی موجودگی نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جب مزدوروں کی ضرورت کے تحت جنوبی ایشیا سے لوگ یورپ آئے، تو بہت سے پاکستانی بھی یہاں آ بسے۔ آج یہ کمیونٹی تقریباً چالیس ہزار افراد پر مشتمل ہے، جو معاشی، سماجی اور تعلیمی میدانوں میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود 24 مارچ 2026 کے پارلیمانی انتخابات میں ایک بھی پاکستانی نژاد امیدوار کی کامیابی نہ ہونا ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے۔

یہ صورتحال محض اتفاق نہیں بلکہ کئی اندرونی اور بیرونی عوامل کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلے اگر ہم کمیونٹی کے اندرونی مسائل کو دیکھیں تو ایک نمایاں پہلو باہمی اختلافات اور گروہ بندی ہے۔ اکثر یہ شکایت سننے میں آتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی کامیابی کو سراہنے کے بجائے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ “ٹانگ کھینچنا” محض ایک محاورہ نہیں بلکہ ایک عملی رویہ بن چکا ہے، جو اجتماعی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

مزید برآں، کمیونٹی مختلف “کلٹس” یا گروہوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے—چاہے وہ سیاسی بنیادوں پر ہوں، مذہبی وابستگیوں پر یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر۔ یہ تقسیم اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اجتماعی مفاد پس پشت چلا جاتا ہے اور ذاتی یا گروہی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نتیجتاً جب کوئی امیدوار سامنے آتا ہے تو اسے مکمل کمیونٹی کی حمایت حاصل نہیں ہو پاتی۔

سیاسی شعور اور عملی شرکت کی کمی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اگرچہ پاکستانی کمیونٹی کاروبار اور ملازمت کے میدان میں کافی متحرک ہے، مگر سیاسی میدان میں بھرپور شرکت ابھی تک محدود ہے۔ ووٹنگ کے رجحانات، انتخابی مہم میں شمولیت، اور مقامی سیاسی نظام کی گہری سمجھ بوجھ یہ سب عوامل کسی بھی کمیونٹی کی نمائندگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، ڈینش معاشرے میں انضمام (integration) کا مسئلہ بھی زیر بحث آتا ہے۔ نئی نسل نسبتاً زیادہ متحرک اور باشعور ہے، مگر پرانی نسل کے کچھ حصے ابھی تک مکمل طور پر سیاسی دھارے میں شامل نہیں ہو سکے۔ اس خلا کو پر کرنا ضروری ہے تاکہ ایک مضبوط اور متحد آواز سامنے آ سکے۔

تاہم اس صورتحال کو صرف تنقید تک محدود رکھنا مناسب نہیں۔ یہ وقت خود احتسابی اور اصلاح کا ہے۔ اگر پاکستانی کمیونٹی واقعی اپنی سیاسی نمائندگی کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے چند بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے:

 • باہمی اتحاد اور برداشت کو فروغ دینا

 • اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا

 • نئی نسل کو سیاست میں آگے لانا

           *   ووٹنگ اور سیاسی عمل میں بھرپور شرکت

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسی بھی کمیونٹی کی طاقت اس کے اتحاد میں ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں پاکستانی نژاد امیدوار کامیاب ہوں، تو ہمیں اپنی صفوں میں موجود تقسیم کو ختم کر کے ایک مشترکہ مقصد کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ ورنہ “بھائی بھائی” کے نعرے محض الفاظ تک محدود رہیں گے، اور عملی میدان میں ہم پیچھے ہی رہیں گے۔

**منجانب: چیئرمین،جی اے راجہ  پاکستانی کمیونٹی فورم ڈنمارک ۔**

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے