سانچیز کی بن گوئیر پر پابندیوں کی مانگ: لیکن اب صرف علامتی اشاروں سے کام نہیں چلے گا
Screenshot
ہسپانوی حکومت غزہ جانے والے امدادی بیڑے سے حراست میں لیے تحریر: شان پیریراگئے سماجی کارکنوں کی تذلیل کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد، اسرائیلی وزیر اتمار بن گوئیر پر عائد پابندیوں کا دائرہ کار پوری یورپی یونین تک بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جہاں یورپ اب بھی صرف "تشویش” اور "مذمت” جیسے الفاظ کی جگالی کر رہا ہے، وہاں اسرائیل مہینوں سے ایک ایسی ریاست کے طور پر کام کر رہا ہے جسے بخوبی معلوم ہے کہ کوئی بھی اسے واقعی روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
پیدرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گوئیر کے خلاف یورپی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز برسلز لے کر جائیں گے۔ انہوں نے یہ قدم اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اٹھایا ہے جو مغرب کے موجودہ سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔بین الاقوامی پانیوں میں امدادی بیڑے کو روک کر بین الاقوامی کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں، انہیں گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا۔ اور ایک انتہائی دائیں بازو کا وزیر ان کے گرد یوں اسرائیلی جھنڈا لہراتے ہوئے مٹر گشت کر رہا ہے جیسے کوئی فوجی فتح کا جشن منا رہا ہو۔
یہ کوئی اچانک بن جانے والا منظر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی پروپیگنڈا فلم تھی۔ ایک تذلیل جسے تماشے میں بدل دیا گیا۔
بن گوئیر نے اس ویڈیو کے ساتھ ایک انتہائی واضح پیغام بھی جاری کیا، "دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کا ہم اسی طرح استقبال کرتے ہیں۔ اسرائیل میں خوش آمدید۔” ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح سیکیورٹی اہلکار "آزاد فلسطین” کا نعرہ لگانے والی ایک ہتھکڑی لگی خاتون کارکن کا سر پکڑ کر اسے زبردستی گھٹنوں کے بل بٹھا رہے ہیں۔ ہم یہاں کسی مسلح جنگجو یا عسکریت پسند کی بات نہیں کر رہے، ہم عام شہریوں کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی کارکن ہیں، وہ لوگ جو غزہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ وہ پٹی مسلسل بھوک، محاصرے اور منظم تباہی کا شکار ہے۔
اور اس سب کے باوجود، یورپی ردعمل ایک بار پھر صرف تعزیت اور رسمی بیانات کے آرام دہ دائرے تک محدود ہے۔ پریس ریلیز اور انفرادی پابندیاں! ہمیشہ انفرادی پابندیاں، جیسے کہ اصل مسئلہ صرف بن گوئیر ہو، نہ کہ وہ پورا سیاسی اور فوجی منصوبہ جس کا وہ ایک مہرہ ہیں۔
کیونکہ اب اس مرحلے پر یہ ڈھونگ رچانا ناممکن ہو چکا ہے کہ اتمار بن گوئیر اسرائیلی حکومت میں کوئی اکیلی کالی بھیڑ یا استثنا ہیں۔ وہ کوئی حادثہ نہیں ہیں، بلکہ دہائیوں سے حاصل مطلق خودمختاری اور استثنیٰ کا ایک منطقی نتیجہ ہیں۔ یہ نتیجہ ہے اس خاموشی کا جس کے تحت غیر قانونی آباد کاری، اجتماعی سزاوں، اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے رپورٹ کردہ نسل پرست (اپارتھائیڈ) نظام اور شہری آبادی پر بمباری کو برداشت کیا گیا، جبکہ یورپ اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کرتا رہا اور اس کی فوجی ٹیکنالوجی خریدتا رہا۔
یورپ اب بھی یوں برتاؤ کر رہا ہے جیسے یہ سب محض ایک اتفاق ہو
ہسپانوی وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس نے ان تصاویر کو "خوفناک” اور "شرمناک” قرار دیتے ہوئے اسرائیلی ناظم الامور دانا ایرلچ کو طلب کیا تاکہ باقاعدہ معافی کا مطالبہ کیا جا سکے۔ سانچیز نے یاد دلایا کہ اسپین نے بن گوئیر کے ہسپانوی سرزمین پر داخلے پر پہلے ہی پابندی لگا رکھی ہے اور اب وہ اس پابندی کو پوری یورپی یونین تک بڑھانا چاہتے ہیں۔
ٹھیک ہے، یہ اقدام درست ہے۔ لیکن انتہائی ناکافی۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ بن گوئیر یورپ میں داخل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں کے باوجود یورپی یونین کے ساتھ ترجیحی تعلقات کا لطف اٹھا رہا ہے۔ وہ اب بھی اسلحہ خرید اور بیچ رہا ہے، اب بھی یورپی پروگراموں میں حصہ لے رہا ہے، اور اب بھی معمول کے مطابق تجارت کر رہا ہے۔ وہ اس اطمینان کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، اس کے خلاف کوئی حقیقی کارروائی نہیں ہوگی۔
اصل سکینڈل تو یہ ہے۔
یورپ نے روس پر محض چند دنوں میں پابندیاں لگا دیں۔ اثاثے منجمد کیے، بینکوں کو سوئفٹ (SWIFT) نظام سے باہر نکالا، فضائی حدود بند کیں، توانائی کے بائیکاٹ کو ہوا دی اور پابندیوں کو فوری سیاسی ہتھیار بنا دیا۔ اس کے برعکس، جب اسرائیل کا معاملہ آتا ہے، تو سب کچھ سفارتی مصلحتوں، حد سے بڑھی احتیاط اور ناممکن توازن کے کھیل میں بدل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس وقت بھی جب اسرائیلی وزراء کھلے عام غزہ کو تباہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں یا زیر حراست شہریوں کی تذلیل کا سرعام جشن مناتے ہیں۔
اور یہ دہرا معیار اب اخلاقی گراوٹ کی حدوں کو چھو رہا ہے۔
اس لیے نہیں کہ روسی جارحیت پر پابندیاں غلط تھیں،وہ بالکل درست اور جائز تھیں،بلکہ اس لیے کہ اس دہرے معیار نے انسانی حقوق کے معاملے میں یورپ کی رہی سہی اخلاقی ساکھ کو بھی ملیا میٹ کر دیا ہے۔ باقی دنیا کو جو پیغام مل رہا ہے وہ انتہائی بھیانک ہے، یعنی بین الاقوامی قانون کا نفاذ اس بات پر منحصر ہے کہ قانون توڑنے والا آپ کا اتحادی ہے یا نہیں۔
اگر حکومت واقعی اپنی ساکھ بچانا چاہتی ہے، تو اسے بہت آگے جانا ہوگا
اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا بن گوئیر پابندیوں کے مستحق ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یورپی یونین ایک ایسی حکومت کے ساتھ مراعات یافتہ تعلقات کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے جہاں بن گوئیر جیسے کرداروں کے پاس نہ صرف طاقت ہے بلکہ وہ ملک کا سیاسی اور فوجی ایجنڈا طے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں؟
کیونکہ اشدود کی بندرگاہ سے آنے والی یہ تصاویر کوئی اچانک سامنے نہیں آئیں۔ یہ اس روش کا شاخسانہ ہیں جو بین الاقوامی بے حسی کے سائے میں مہینوں سے شدت اختیار کر رہی ہے۔ انسانی امداد کی بندش، ہسپتالوں پر حملے، پناہ گزین کیمپوں پر بمباری، صحافیوں کا قتل، امدادی کارکنوں کی موت، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا… اور اب بین الاقوامی کارکنوں کو گرفتار کر کے انہیں سیاسی ٹرافیوں کے طور پر سرعام نمائش کے لیے پیش کرنا۔
یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب یورپ اب بھی اسرائیل کے ساتھ یوں پینگیں بڑھا رہا ہے جیسے وہ کوئی عام جمہوری شراکت دار ہو۔
اگر ہسپانوی حکومت واقعی ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتی ہے، تو اسے یورپی یونین کے اندر ایسے سوالات اٹھانے ہوں گے جو سب کو(بے چین) کر دیں، اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کی معطلی، اسلحے کی مکمل پابندی، غیر قانونی بستیوں سے منسلک کمپنیوں کا تجارتی بائیکاٹ اور حقیقی معاشی پابندیاں۔ علامتی نہیں، بلکہ زمین پر نظر آنے والی حقیقی پابندیاں۔
کیونکہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب الفاظ بے اثر ہو جاتے ہیں۔اور شاید وہ وقت کافی عرصہ پہلے گزر چکا ہے۔